احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 185
کے مشہور وکیل خواجہ سرفراز احمد صاحب پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن خواجہ صاحب کی زندگی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچ گئی۔اب بیہودگی اور چھچھورے پن کی انتہا ہو چکی تھی۔اس واقعہ پر خود سیالکوٹ کے وکلاء نے ہڑتال کر دی اور شدید احتجاج کیا اور جلوس نکالا۔اب مجلس تحفظ ختم نبوت کو بھی ہمت نہیں ہوئی کہ اس کی حمایت کرتی۔یہ اس ڈرامے کا ڈراپ سین تھا۔امروز لاہور 10 مارچ 1989ء) اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ نے اس اہم واقعہ کا ذکر غیر معمولی اختصار سے کیا تھا اور مضمون کافی تشنہ رہ گیا تھا حالانکہ 1984ء کے واقعات کی بنیاد اسلم قریشی صاحب کی نام نہاد شہادت ہی تو تھی۔ان حالات کو سمجھنے کے لئے ان واقعات کی تفاصیل کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔عدالتی فیصلہ میں کلیدی اسامیوں کا ذکر اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں اس مسئلہ کا ذکر بار بار آیا ہے کہ احمدیوں کی فہرستیں بنانا ضروری ہے ورنہ یہ خدشہ ہے کہ احمدی یا دوسرے اقلیتی مسالک کے لوگ کلیدی یا حساس اسامیوں پر فائز ہو سکتے ہیں۔خواہ اس مقدمہ میں درخواست گزاروں کی درخواستیں ہوں ، یا وکلا کے دلائل ہوں، یا عدالت کی اعانت کے لئے طلب کئے گئے ماہرین کی آراء یا بحث ہو یا عدالت کا اپنا فیصلہ یا رائے ہو، یہ ذکر بار بار آتا رہا ہے کہ کلیدی یا حساس اسامیوں پر قادیانیوں کا تسلط پہلے بھی رہا ہے اور اب بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ ان اسامیوں پر فائز ہوکر وہ ملک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔185