احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 183 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 183

تحریک ختم نبوت کے لیڈروں مثلاً مولوی منظور چنیوٹی ، مولوی خان محمد صاحب ،ضیاء القاسمی وغیرہ کو گرفتار کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ لیا جائے اور ہائی کورٹ کے ایک حج سے اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں۔ان افراد کو گرفتار کر کے بے نقاب کیا جائے اور کڑی سزا دی جائے تا کہ مذہب کے نام پر آئندہ کسی کو ایسا ڈرامہ کرنے کی ہمت نہ ہو اور اس ڈرامہ کے دوران جو املاک تباہ ہوئیں اور جو اسلم قریشی کے نام پر جو کروڑوں کا چندہ اندرون ملک اور بیرون ملک وصول کیا گیا وہ قومی خزانہ میں جمع کرایا جائے۔یہ ایک ڈھونگ تھا جو کہ ختم نبوت کے نام پر علماء دیو بند نے رچایا تھا۔(روز نامہ حیدر راولپنڈی 15 جولائی 1988 ء) ایک اخبار نے اس صورت حال پر یہ اداریہ لکھا۔افسوسناک امر تو یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو ساڑھے پانچ برس تک گمراہ کیا جاتارہا اور مختلف حلقوں پر اس ضمن میں الزامات بھی عائد کئے گئے۔مولانا اسلم قریشی کی از خود واپسی جہاں ان کی گمشدگی سے زیادہ بڑا اسرار ہے وہاں اس حوالے سے بہت سے سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر اس سلسلہ میں آج تک جتنے بے گناہ لوگوں کو تھانوں میں بٹھا کر تفتیش کے بہانے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مولانا موصوف کی بازیابی کے لئے جتنی ہڑتالیں کی گئیں اور کاروباری حلقوں کا جتنا نقصان ہوا اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ “ (روز نامه حیدر راولپنڈی 14 جولائی 1988 ء) اس وقت قومی اسمبلی تو تحلیل ہو چکی تھی البتہ سینٹ میں اس اسلم قریشی صاحب کا بعد از موت زندہ ہو جانے کا تذکرہ ضرور ہوا۔اس موضوع پر تحاریک التوا پیش ہوئیں تو چیئر مین 183