احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 172 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 172

1۔جماعت احمدیہ کو خلاف قانون قرار دیا جائے اور اس کے فنڈ ز منجمد کئے جائیں۔2۔احمدیوں کو کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔3۔احمدیوں کو اس بات سے روکا جائے کہ وہ شعائر اسلام استعمال کر سکیں۔انہیں اس بات سے روکا جائے کہ وہ اذان دے سکیں، مسجد کی شکل میں اپنی عبادتگاہ بنا سکیں، نماز کی شکل میں عبادت کر سکیں۔4۔احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی لگائی جائے۔5۔مرتد کے لئے سزائے موت مقرر کی جائے اور اس کے ساتھ یہ نکتہ بھی اُٹھایا گیا کہ ایسے کئی قوانین موجود ہیں جو کہ جاری تو بعد میں ہوئے لیکن اُن کا دائرہ کار ماضی کے زمانہ پر بھی محیط تھا قتل مرتد کے بارے میں غور کر لینا چاہیے کہ اس کا اطلاق بانی جماعت احمدیہ کے دعوے سے شروع ہوگا یا پاکستان کی آزادی کی تاریخ سے اور جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد احمدیت کو قبول کیا ہے انہیں تین روز کے لئے علماء کے حوالے کیا جائے اگر وہ اس دوران تائب نہ ہوں تو اُن کو سزائے موت دی جائے۔چٹان 11 تا 18 جولائی 1983 صفحہ 15 ،32) یہ مطالبات اور ان کے پیچھے کارفرما ارادے واضح ہیں اور ان پر زیادہ تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا کہ جب جماعت احمدیہ کے مخالفین نے یہ دیکھا کہ پولیس حقیقت تک پہنچ رہی ہے اور ان کے مقاصد پورے نہیں ہو رہے تو انہوں نے پولیس افسران پر قادیانی اور قادیانی نواز ہونے کا الزام لگا یا تھا۔جلد ہی جب انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک کی حکومت ان کی ہاں میں ہاں ملائے تو انہوں نے صدر جنرل ضیاء صاحب پر بھی قادیانی ہونے کا الزام لگایا اور جنرل صاحب کو 172