احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 171 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 171

تحریک چلانے میں پیش پیش تھے، انہیں ملک سے باہر بھجوانے کی پیشکش کی تھی اور پولیس نے کچھ مولویوں کو بھی شامل تفتیش کیا تھا۔اس پس منظر میں جب کمشنر جی ایم پراچہ سے ملنے کے لئے مجلس عمل اور مولوی حضرات کا ایک وفد گیا تو کمشنر صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ قادیانیوں نے آخر اسلم قریشی صاحب کو کیوں اغوا کرنا تھا۔اگر انہوں نے اغوا کرنا تھا تو منظور چنیوٹی صاحب کو کرتے جو کہ انہیں گالیاں دیتے ہیں۔ہفت روزہ چٹان 23 تا 30 مئی 1983 صفحہ (7) قادیانی اور قادیانی نواز ہونے کے الزامات اور مطالبات کا پر چار جماعت احمدیہ کے مخالفین نے جب تفتیش کا یہ رُخ دیکھا تو انہوں نے اپنی سابقہ طرز پر ہی مہم چلانی شروع کی۔ایک طرف تو یہ واویلا شروع کیا کہ قادیانی ملک کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں بلکہ پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں۔مشرقی پاکستان بھی ان کی سازش کی وجہ سے علیحدہ ہوا تھا۔1948ء میں کشمیر میں تنازعہ بھی ان کی وجہ سے ہوا تھا وغیرہ وغیرہ اور یہ بھی پروپیگنڈا شروع کیا کہ سیالکوٹ کے ایس پی پولیس طلعت محمود صاحب یا تو قادیانی ہیں اور یا قادیانی نواز ہیں اور پھر جلد ہی یہ مطالبہ بھی شروع ہو گیا کہ جو افسران اب تک یہ تحقیقات کر رہے ہیں انہیں تبدیل کیا جائے اور حکومت جائزہ لے کہ کہیں پولیس میں ”نقب“ تو نہیں لگ چکی اور یہ مطالبہ زور پکڑ رہا تھا کہ امام جماعت احمدیہ کو شامل تفتیش کر لیا جائے۔چٹان 4 تا 11 اپریل 1983 ، صفحہ 6، چٹان 18 تا 25 اپریل 1983 صفحہ 8 ، چٹان 16 تا 23 مئی 1983ء صفحہ 7 ، چٹان 11 تا 18 جولائی 1983 صفحہ (32) جیسا کہ پہلے 1930ء کی دہائی میں ، 1953 ء اور 1974 ء کے فسادات میں ہو چکا تھا ، ایک موضوع پر یعنی اس گمشدگی پر مہم شروع کی گئی تھی اور پھر جلد ہی جماعت احمدیہ کے خلاف مطالبات کی طویل فہرست سامنے آگئی تھی۔چنانچہ مطالبات یہ تھے۔171