احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 1 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 1

1857ء کی جنگ کے بارے میں اصل حقائق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں تاریخی واقعات کا جوتفصیلی مگر بے ربط اور خلاف واقعہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے اس کا نقطہ آغاز 1857ء کی جنگ کو بنایا گیا ہے۔مناسب ہوگا اُس دور کے کچھ مسلمانوں کی تحریروں کے حوالے درج کر دیئے جائیں تا کہ یہ واضح ہو کہ اُس دور کے مسلمان 1857ء کی جنگ کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے؟ اس سے ہم سمجھ سکیں گے کہ مسلمانوں میں اس جنگ کا جو رد عمل پیدا ہوا وہ کیوں ہوا؟ اس فیصلہ کے صفحہ 40 پر غازی صاحب کی تحریر درج ہے جس میں لکھا ہے کہ 1857ء کی جنگ میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے مغلیہ سلطنت پر قبضہ کر لیا اور یہ مسلمانوں کے لئے بہت بڑا المیہ تھا۔یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ غازی صاحب کو اس بارے میں بنیادی حقائق کا علم نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ سے قبل ہی دہلی اور اس کے گردو نواح کا تمام علاقہ انگریزوں کے قبضہ میں آچکا تھا اور یہ قبضہ خود مسلمان بادشاہ کی درخواست پر کیا گیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے دادا شاہ عالم کو مرہٹوں نے گرفتار کر کے ان کی آنکھیں نکال دی تھیں۔جب مرہٹوں کو شکست ہوئی تو شاہ عالم نے انگریزوں کو درخواست کی کہ وہ انہیں اپنی پناہ میں لیں۔جنرل لیک نے انہیں رہا کر کے ان کا وظیفہ مقرر کیا اور 1857ء کی جنگ سے قبل بہادر شاہ ظفر بھی انگریز حکومت سے پنشن پاتے تھے اور دہلی میں بھی حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کی تھی۔(1857 ء مجموعه خواجہ حسن نظامی ناشر سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور مطبوعہ 2007، صفحہ 308) جب نام کا بادشاہ بھی ایسٹ انڈیا کمپنی سے پینشن لیتا تھا تو یہ تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ اس جنگ کو شروع کرنے والے اور اس کو شہر شہر پھیلانے والے اور اس سلسلہ کو آگے 1