احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 2 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 2

بڑھانے والے آخر کون تھے؟ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہر مقام پر یہ جنگ لڑنے والے وہ سپاہی تھے جو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تنخواہ دار تھے۔وہ اب تک انگریزوں کے سب سے زیادہ وفادار تھے۔یہ وہ سپاہی تھے جنہوں نے ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت قائم کرنے کے لیے اپنے ہم وطنوں سے جنگیں لڑیں تھیں۔بہادر شاہ ظفر کے درباری ظہیر دہلوی کا بیان ہے کہ جب دہلی میں پہلی مرتبہ باغی سپاہی اور انگریز ریزیڈنٹ کا سامنا ہوا تو ان سپاہیوں نے اس وقت بھی انگریز افسر کو یہی کہا: غریب پرور ! حضور سچ فرماتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں سرکار نے ہم لوگوں کو اسی طرح پالا اور پرورش کیا ہے۔سرکار کے حقوق نمک ہم نہیں بھولیں گے مگر ہم لوگوں نے آج تک سرکار کی کوئی نمک حرامی نہیں کی۔جہاں سرکار نے ہمیں جھونک دیا، ہم آنکھیں بند کر کے آگ میں پانی میں کود پڑے۔کچھ خوف جوکھوں کا نہ کیا۔سر کٹوانے میں کہیں دریغ نہ کیا۔کابل پر ہمیں لوگ گئے۔لاہور ہمیں لوگوں نے فتح کیا۔کلکتہ سے کابل تک ہمیں لڑے بھڑے، سر کٹوائے ، جانیں دیں اور حق نمک ادا کیا۔داستان غدر مصنفہ ظہیر دہلوی ناشر سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور سال 2007 ، صفحہ 49 ، 50 ) جیسا کہ حوالہ درج ہے یہ گواہی ایک ایسے مسلمان کی ہے جو کہ بہادرشاہ ظفر کے دربار سے منسلک تھا۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ اُس وقت کے مسلمانوں سے اور دہلی کی مقامی آبادی سے اس فوج نے کیا سلوک کیا تھا۔یہی صاحب یعنی ظہیر دہلوی بیان کرتے ہیں: وہ تمام بد پیشہ بد معاش چوٹے اٹھائی گیرے کر کی بانڈی باز مال مردم خور جو ایسے مواقعات کے منتظر رہتے تھے ، گھروں سے نکل نکل کر آن موجود ہوئے اور ایک جم غفیر اور ایک اثر دہام، کثیر فرقہ باغیہ میں شامل ہو گیا۔اب ایک سوار ہے پچاس بد پیشہ اس کی اردلی میں دوڑے جاتے ہیں۔سوار کسی پر دست درازی کرتے ہیں، بدمعاش لوٹ کھسوٹ کرنے لگتے 2