احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 168 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 168

وقف تھے تا کہ یہ شبہ نہ پیدا ہو سکے کہ حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے۔اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی اب ہم اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی کا ذکر کرتے ہیں۔تحصیل پسرورضلع سیالکوٹ میں بھارت کی سرحد کے بالکل قریب ایک گاؤں معراجکے ہے۔اس جگہ دولڑکیوں نے احمدیت قبول کر لی۔لازمی طور پر اس جگہ مخالفت شروع ہو گئی۔اس مقام پر جماعت احمد یہ کے ایک مخالف محمد یوسف صاحب نے سیالکوٹ میں جماعت کی مخالف تنظیم مجلس احرار کے رکن سالار بشیر صاحب سے کہا کہ معراجکے میں انہیں ایک مبلغ کی ضرورت ہے۔سالار بشیر صاحب نے اسلم قریشی صاحب سے درخواست کی کہ وہ معراجکے میں جمعہ پڑھائیں۔چنانچہ اسلم قریشی صاحب نے وہاں پر 11 فروری 1983ء کو ختم نبوت“ کے موضوع پر خطبہ دیا اور مقامی لوگوں کے ساتھ طے ہوا کہ وہ اگلی جمعرات کو اس موضع میں عورتوں کو وعظ کریں گے اور اس سے اگلے روز جمعہ پڑھا ئیں گے۔اسلم قریشی صاحب 17 فروری جمعرات کے روز ایک مدرسہ دار العلوم شہابیہ تک سائیکل پر گئے اور وہاں پر اپنی سائیکل ایک نابینا کے حوالے کی کہ میں واپسی پر لے لوں گا اور معراجکے روانہ ہو گئے۔اس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چلا۔سالار بشیر صاحب جب محمد یوسف صاحب کو ملے تو انہیں بتا دیا کہ اسلم قریشی صاحب معراجکے چلے گئے ہیں۔محمد یوسف صاحب معراجکے آئے۔انہیں علم ہو گیا کہ اسلم قریشی صاحب وہاں نہیں پہنچے لیکن اس نے کسی کو اطلاع نہیں دی اور جب گمشدگی پر پولیس نے تفتیش شروع کی تو محمد یوسف صاحب کو تحویل میں بھی لیا تھا۔لازمی بات ہے جب ایک شخص اس طرح گم جائے تو پھر پولیس میں رپورٹ درج کرائی جاتی ہے۔جماعت احمدیہ کی مخالف تنظیم مجلس تحفظ ختم نبوت کو یہ شکوہ تھا کہ ان کی 168