احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 169
رپورٹ تاخیر سے درج کی گئی۔دوسرا شکوہ یہ تھا کہ جب ہم نے پولیس سے کہا کہ ایف آئی آر میں شبہ میں قادیا نیوں کا نام لکھیں تو پولیس والوں نے کہا کہ کیا ملک کے سارے قادیا نیوں کو پکڑلیں؟ پھر پولیس نے ایف آئی آر میں چند احمدیوں کے نام درج کر دیئے۔مجلس عمل کا قیام بہر حال 25 فروری 1983ء کو مخالفین جماعت نے اسلم قریشی صاحب کی بازیابی کے لئے مجلس عمل قائم کر دی۔1984ء کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کے صفحہ 76 پر جس مجلس عمل کا ذکر ہے وہ اس طرح اسلم قریشی صاحب کے لاپتہ ہونے پر قائم کی گئی تھی۔26 اور 27 فروری کو چنیوٹ میں جماعت احمدیہ کے مخالفین مباہلہ کا نفرنس منعقد کرتے ہیں اور مولوی منظور چنیوٹی صاحب اس میں اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی کی خبر کو خوب اجاگر کرتے ہیں اور منظور چنیوٹی صاحب یہ انکشاف کرتے ہیں کہ اسلم قریشی صاحب کا اغوا مرزا طاہر احمد (امام جماعت احمدیہ ) کی سازش کا نتیجہ ہے اور حکومت کو خبر دار کیا جاتا ہے۔اور اس گمشدگی کے تقریباً ایک ماہ کے اندر اندر ہی صدر مملکت سے بھی اپیلیں شروع ہو جاتی ہیں کہ ایک ممتاز عالم دین گم ہو گیا ہے اور ہمیں شبہ ہے کہ قادیانیوں نے دشمنی کی وجہ سے اغوا کرلیا ہے۔پولیس کے ابتدائی انکشافات (نوائے وقت 27 فروری 1983 ء) اب ہم یہ تذکرہ کرتے ہیں کہ ان ابتدائی دنوں میں پولیس نے کیا دریافت کیا تھا؟ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ پولیس کو پہلا شک معراجکے کے جماعت احمدیہ کے مخالف محمد یوسف صاحب پر ہوا تھا کیونکہ انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ اسلم قریشی صاحب 169