احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 166
اقتصادی مشیر تھے۔15 ستمبر 1971ء کو جب کہ ملک ایک آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا تھا، مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اسلام آباد کے سیکرٹریٹ میں صبح کے وقت اپنے معمول کے مطابق مرکزی سیکرٹریٹ آئے اور سوا آٹھ بجے آپ لفٹ میں اپنے دفتر جا رہے تھے۔جس وقت لفٹ کا دروازہ بند ہو رہا تھا اس وقت کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک فورمین اسلم قریشی بھی لفٹ میں سوار ہو گیا۔اور اس وقت کسی نے اس شخص کو سوار ہونے سے نہیں روکا۔جب لفٹ کا دروازہ بند ہوا تو اس وقت اسلم قریشی نے چاقو نکالا اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے پیٹ پر وار کیا۔وہ دوسرا وار کرنے لگا تھا کہ لفٹ والے اور دفتر کے ایک اور ملازم نے اسے پکڑ لیا۔اس پر اسلم قریشی نے صاحبزادہ صاحب پر پھر بھر پور وار کرنے کی کوشش کی اور گالیاں نکالنی شروع کر دیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔لفٹ چلانے والے نے لفٹ کا دروازہ کھول دیا اور صاحبزادہ صاحب کو سہارا دے کر نکالا گیا۔پہلے اسلام آباد پولی کلینک لے جا کر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور پھر سی ایم ایچ لے جایا گیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب روز نامہ امروز نے یہ خبر شائع کی تو ساتھ اس عنوان کے تحت بھی کچھ سطور لکھیں اسلم قریشی کا ماضی بے داغ ہے اور اس کے نیچے لکھا کہ جب اس کو جاننے والوں کو اس حملہ کا علم ہوا تو انہیں بہت حیرت ہوئی کیونکہ اس سے قبل اسلم قریشی کسی لڑائی جھگڑے میں ملوث نہیں رہا اور لوگ اس کی سنجیدگی ، متانت اور شرافت کے قائل تھے اور وہ کسی فرقہ پرست جماعت کا رکن بھی نہیں ہے۔گویا قاتلانہ حملہ کرنے کے بعد بھی حملہ آور کے کردار کے بارے میں شک رہ جاتا ہے۔یہ ایک معمول کی بات ہے کہ جب کوئی کسی احمدی پر اس قسم کا حملہ کرتا ہے تو ایک طبقہ مفسدوں کی حمایت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے۔جب حضرت مصلح موعود پر قاتلانہ حملہ ہوا تو رض 166