احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 161 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 161

جماعت احمدیہ کے اشد مخالف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر اور پاکستان علماء کونسل کے صدر طاہر اشرفی صاحب نے اعتراف کیا کہ انہیں بعض شائع ہونے والے فتاویٰ دکھائے گئے جن میں لکھا تھا کہ شیعہ اور قادیانی عورتیں تمہاری لونڈیاں ہیں ، ان کے اموال مال غنیمت کے طور پر حلال ہیں اور ان کو قتل کرنا فرائض دینی میں شامل ہے۔(A Debate on Takfeer and Khurooj, Editor Safdar Sial, Printed by Narratives Publication 2012, p 102) اگر ابھی بھی کسی پڑھنے والے کے دل میں یہ خوش نہی موجود ہے کہ یہ کفر وارتداد اور قتل و غارت کے فتوے صرف احمدیوں اور شیعہ احباب تک محدود رہ جائیں گے تو محض خام خیالی ہوگی۔مجاہد حسین صاحب لکھتے ہیں : پنجاب میں تحریک طالبان کے ورثاء جو تتر بتر شیعہ تنظیموں کو تقریباً شکست فاش دے چکے ہیں، اب ان کے اگلے اہداف بریلوی مسالک کی تنظیمیں ہیں جبکہ پنجاب میں دیو بندیوں کے درمیان بھی واضح تقسیم دیکھی جاسکتی ہے جو تیزی کے ساتھ حیاتی اور مماتی کی عقیدہ جاتی شناختوں کو واضح کر رہے ہیں۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین، ناشر سانجھ لاہور مارچ 2011ء صفحہ 275) اگر ان سخت گیر اسلام کے نفاذ کے داعیوں کے خصوصی اجتماعات یا خطبات کو سنا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شدت جذبات کا کیا حال ہے۔ان خطبات میں صوفیاء کے مزاروں اور خانقاہوں پر زائرین کے جانے کو شرک سے تعبیر کیا جاتا ہے اور مشرک کو بدترین شخص قرار دیا جاتا ہے جس کی سزا موت سے کہیں زیادہ ہے۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین، ناشر سانجھے لاہور مارچ 2011 ص 296) 161