احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 154
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ - (المائدة: 22) ترجمہ: اے میری قوم ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے۔اگر شبیر احمد عثمانی صاحب کا نظریہ تسلیم کیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ فلسطین جا کر آباد ہو جائیں۔1953ء کے فسادات پنجاب پر بننے والی تحقیقاتی عدالت میں بھی الشہاب“ کو پیش وو کیا گیا تھا۔اس کتا بچہ کے پیش کردہ نظریات پر تحقیقاتی عدالت کا تبصرہ یہ تھا: ارتداد کے لئے سزائے موت بہت دور رس متعلقات کی حامل ہے اور اس سے اسلام مذہبی جنونیوں کا دین ظاہر ہوتا ہے جس میں حریت فکر مستوجب سزا ہے۔قرآن تو بار بار عقل و فکر پر زور دیتا ہے۔رواداری کی تلقین کرتا ہے اور مذہبی امور میں جبر واکراہ کے خلاف تعلیم دیتا ہے لیکن ارتداد کے متعلق جو عقیدہ اس کتابچے میں پیش کیا گیا ہے وہ آزادی فکر کی جڑ پر ضرب لگا رہا ہے کیونکہ اس میں یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ جو شخص پیدائشی مسلمان ہو یا خود اسلام قبول کر چکا ہو وہ اگر اس خیال سے مذہب کے موضوع پر فکر کرے کہ جو مذہب اسے پسند آئے وہ اسے اختیار کرلے وہ سزا کا مستوجب ہو گا۔اس اعتبار سے اسلام کامل ذہنی فالج کا پیکر بن جاتا ہے اور اگر اس کتابچہ کا یہ بیان صحیح ہے کہ عرب کے وسیع رقبے بارہا انسانی خون سے رنگین ہوئے تھے تو اس سے یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ عین اس زمانے میں بھی جب اسلام عظمت و شوکت کے نقطہ عروج پر تھا اور پورا عرب اس کے زیر نگین تھا۔اس ملک میں بے شمار ایسے لوگ موجود تھے جو اس سے منحرف ہو گئے تھے اور انہوں نے اس کے نظام کے ماتحت رہنے پر موت کو ترجیح دی تھی۔اس کتابچے کے مصنف نے جو یہ نتیجہ نکالا ہے وہ اس نظیر پر مبنی ہے جو عہد نامہ عتیق کے فقرات 82،72،62 میں مذکور ہے اور جس کے متعلق 154