احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 153 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 153

ہیں کہ ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دو۔اس بحث کو اگر ایک طرف رہنے دیں تو بھی یہاں مسلمانوں کو کوئی حکم دیا ہی نہیں گیا۔یہاں تو ایک مخصوص موقع پر بنی اسرائیل کو ایک حکم دینے کا ذکر ہے۔اور اُن کو بھی کوئی عمومی حکم نہیں کہ جب بھی کوئی مرتد ہو تو اُسے قتل کر دو۔شبیر احمد عثمانی صاحب اس کا یہ حل تجویز کرتے ہیں۔" کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ موسوی شریعت کا ہے۔امت محمدیہ کے حق میں اس سے تمستک نہیں کیا جا سکتا لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پہلی امتوں کو جن شرائع اور احکام کی ہدایت کی گئی ہے اور قرآن نے اُن کو نقل کیا ہے وہ ہمارے حق میں بھی معتبر ہیں اور ان کی اقتدا کرنے کا امرہم کو بھی ہے جب تک کہ خاص طور پر ہمارے پیغمبر اور ہماری کتاب اس حکم سے ہم کو علیحدہ نہ کر دیں۔“ (الشهاب مصنفہ شبیر احمد عثمانی ، ناشر ادبی کتب خانه ملتان صفحه 33 و 34 ) اگر شبیر احمد عثمانی صاحب کا استدلال قبول کیا جائے تو پھر قرآن کریم کی ایک آیت ہے۔وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّ أَلِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَ اجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةٌ- (يونس: 88) ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر تیار کرو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ رکھو۔اس طرح تو پھر اس سے یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ مسلمانوں پر بھی فرض ہے کہ اپنے گھروں کو قبلہ رُخ بنا ئیں۔کو فرمایا: اسی طرح قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل 153