احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 152
قرآن کریم سے دلائل اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ مولوی شبیر عثمانی صاحب اور مودودی صاحب نے قرآن کریم سے اس نظریہ کے حق میں کیا دلائل دیئے تھے؟ شبیر عثمانی صاحب نے اپنے کتا بچہ کے پہلے 26 صفحے تو احمدیوں کو مرتد ثابت کرنے میں صرف کئے۔پھر ذکر شروع ہوا که قرآن کریم میں کہیں ذکر آیا ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے؟ تو پہلے یہ دعویٰ پیش کیا گیا کہ یوں تو بہت سی آیات سے قتل مرتد ثابت ہوتا ہے اور پھر صفحہ 30 پر لکھتے ہیں کہ ایک آیت ایسی ہے جس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یقینی طور پر ( نعوذ باللہ ) قرآن کریم میں مرتد کی سز اقتل بیان ہوئی ہے اور یہی اسلام میں حکم بیان ہوا ہے کہ مرتد کو قتل کر نالازمی ہے۔ملاحظہ کریں کہ کون سی آیت پیش کی گئی۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِالْخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِيَّكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِيكُمْ (البقرة : 55) اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم یقینا تم نے بچھڑے کو (معبود) بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔پس تو بہ کرتے ہوئے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف متوجہ ہو اور 66 اپنے نفوس کو قتل کرو۔یہ تمہارے لئے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہت بہتر ہے۔“ شبیر عثمانی صاحب کے نزدیک بنی اسرائیل کے ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی تھی کہ وہ اپنے اُن رشتہ داروں کو قتل کریں جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔جماعت احمدیہ کے نزدیک اپنے نفوس کو قتل کرنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے نفوس کو مارو یعنی اپنے گناہوں سے تو بہ کرو۔البتہ دیگر علماء میں سے بہت سے اس کا یہ مطلب لیتے 152