احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 148 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 148

جماعت احمدیہ کے مخالفین کا یہ بھی ایک دیرینہ مطالبہ ہے۔کچھ دیر کے لئے یہ بحث چھوڑتے ہوئے کہ پیدائشی احمدیوں کو بھی کس طرح مرتدین میں شمار کرتے ہیں؟ پہلے یہ ملاحظہ کریں کہ یہ سفارش کسی مولویوں کے مدرسہ کی نہیں تھی ، کسی جلسہ میں جذبات سے بے قابو مقرر کی نہیں تھی بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تھی۔یہ اسلامی نظریاتی کونسل کیا ہے؟ یہ کونسل آئین پاکستان کی شق نمبر 228 تا 231 کے تحت قائم کی جاتی ہے اور اس کا کام حکومت اور پارلیمنٹ کو یہ مشورہ دینا ہے کہ مختلف قوانین کو کس طرح اسلامی قوانین سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے یا اسلامی احکامات کی روشنی میں کس طرح قانون سازی کی جاسکتی ہے۔اُس وقت ملک میں جنرل ضیاء صاحب کا مارشل لاء لگا ہوا تھا اور یکلخت اسلامی نظریاتی کونسل کو خود یہ خیال نہیں آیا تھا کہ یہ مسئلہ چھیڑ دیتی ، حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت خود حکومت کی وزارت دفاع نے یہ سوال اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا تھا کہ اگر دفاعی سروس کے دوران کوئی شخص احمدی ہو جائے تو پھر اس پر کیا ردعمل ہونا چاہیے۔( Persecution of Ahmadis in Pakistan۔An objective study, by Mujeeb-ur-Rahman p 21) یہاں اگر یہ موہوم امید پیدا ہو کہ یہ تو اُن لوگوں کے لئے ہے جو خود احمدی ہوئے تھے اور ان کا اثر اُن پر نہیں پڑے گا جو کہ پیدائشی احمدی ہیں۔تو اس کا حل بھی ایک Amicus Curiae یعنی حسن مدنی صاحب نے تجویز فرمایا ہے۔اس فیصلہ کے صفحہ 20 پر اُن کی یہ رائے درج ہے۔"The learned Amicus Curiae has also contended that non-Muslims in an Islamic State are not entitled to pose themselves as Muslims and if they do so, it falls within the ambit of high treason, and disloyalty to the State of 148