احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 133
کتاب کے مختلف زبانوں میں تراجم کرا کے شائع کئے گئے اور ان کتب کو دنیا میں سعودی عرب کے سفارت خانوں نے تقسیم کیا۔اس کے بعد 1986ء میں پاکستان کے بہت سے مدرسوں نے جو سعودی عرب سے فیاضانہ مالی مدد لیتے تھے شیعہ احباب کے ارتداد کے فتاویٰ دے دیئے۔ان فتاویٰ کو نعمانی صاحب نے ایک جلد میں علیحدہ شائع کرایا۔اور یہ فتاوی پاکستان میں شیعہ احباب کے قتل و غارت کا باعث بنے۔( Sectarian War, by Khaled Ahmad, published by Oxford Pakistan Paperbacks 2013۔p 95-92,300) یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ جب بھی جماعت احمدیہ کے خلاف تعصب کی آگ بھڑکائی جاتی ہے اس کے شعلے پورے معاشرے میں پھیلتے ہیں اور جلد ہی دوسرے فرقوں کے خلاف واقعات بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔چنانچہ پاکستان بننے کے معا بعد جب احرار اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کے دوسرے گروہ جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات بھڑ کانے میں مصروف تھے اسی وقت شیعہ سنی اختلافات اور دوسرے فرقوں میں اختلافات بھی شدید ہونا شروع ہو گئے تھے۔چنانچہ 1953ء کے فسادات پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے : اس مرحلہ پر فرقہ وار مناقشوں نے اور بھی زیادہ مکروہ شکل اختیار کر لی۔کئی مقامات پر شیعہ سنی اختلافات پیدا ہونے اور بڑھنے لگے۔“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 صفحہ 35) 1978 ء میں کون سے جہاد کی تیاریاں ہو رہی تھیں رابطہ عالم اسلامی کی اس قرارداد میں مذہبی تنگ نظری کو فروغ دینے کے علاوہ اس بات کا ذکر نمایاں تھا کہ جماعت احمد یہ جہاد کی منکر ہے۔133