احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 132 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 132

کرنے کے لئے یہودیت و مجوسیت کی مشترکہ کاوش سے اس وقت وجود میں آئی تھی جب یہ دونوں قوتیں طاقت کے بل پر اس کی برق رفتاری سے پھیلتی ہوئی دعوت کو روکنے میں ناکام رہی تھیں۔“ وو ایرانی انقلاب از منظور نعمانی ناشر حاجی عارفین اکیڈمی کراچی دسمبر 1987 ، صفحہ 292-293) 4 - " عقیدہ امامت ہی کے لازمی نتائج میں سے ہیں جن میں سے سر فہرست تحریف قرآن کا عقیدہ ہے۔“ ایرانی انقلاب از منظور نعمانی ناشر حاجی عارفین اکیڈمی کراچی دسمبر 1987ء صفحہ 291) یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کتاب کا مقدمہ ابوالحسن علی ندوی صاحب نے لکھا تھا۔وہ رابطہ عالم اسلامی کی standing committee کے رکن تھے اور انہیں 1980ء میں شاہ فیصل ایوارڈ ملا تھا۔جب 1978ء میں کراچی میں رابطہ عالم اسلامی کے ایشیا ریجن کا اجلاس ہوا تو اس میں ابوالحسن علی ندوی صاحب بحیثیت نائب صدر شریک ہوئے تھے اور انہوں نے اس اجلاس سے خطاب بھی کیا تھا اور جماعت احمدیہ کے خلاف مذکورہ قرار داد منظور کرنے میں شامل تھے۔احمدیت کے خلاف رابطہ عالم اسلامی کی قراردادوں میں بلکہ 1974ء میں ہونے والی پاکستان کی قومی اسمبلی کی پیشل کمیٹی کی کارروائی کے دوران بھی اسی قسم کے الزامات جماعت احمدیہ کے خلاف لگائے گئے تھے۔مثال کے طور پر یہ کہ وہ نعوذ باللہ ختم نبوت کے منکر ہیں، صحابہ کی توہین کرتے ہیں ، اپنے علاوہ دوسروں کو مسلمان نہیں سمجھتے ، اور یہودیوں کے اور بیرونی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں ، قرآن کریم میں تحریف کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔خالد احمد صاحب اپنی کتاب Sectarian War میں تحریر کرتے ہیں کہ اس 132