احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 111 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 111

وجہ یہ تھی کہ قومی اسمبلی نے یہ طے کیا تھا کہ سپیشل کمیٹی اس بات پر غور کرے گی کہ اسلام میں اس شخص کی کیا حیثیت ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ سمجھتا ہو؟ اور قواعد کی رو سے یہ سپیشل کمیٹی اس بات کی پابند تھی کہ اس سوال پر کارروائی چلائے لیکن جماعت احمد یہ کا محضر نامہ سننے کے بعد اٹارنی جنرل صاحب اور ممبران اسمبلی نے یہی مناسب سمجھا کہ اس موضوع پر سوال و جواب کا سلسلہ نہ ہی چلایا جائے تو بہتر ہوگا۔چنانچہ اتنے روز غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کیا گیا۔غلط حوالے اس فیصلہ میں اس ذکر سے بچنے کی ایک اور وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب جو سوالات پڑھ رہے تھے ان کی بنیاد کچھ حوالوں پر تھی جو کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے پیش کئے جارہے تھے۔لیکن ان میں سے کئی حوالے ساری کارروائی میں غلط ثابت ہوتے رہے۔یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آتی کہ اس تواتر کے ساتھ بیچی بختیار صاحب نے غلط حوالے کیوں دیئے یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انہیں سوالات مہیا کرنے والے ممبران اور علماء نے اتنے غلط حوالے کس طرح مہیا کئے۔علماء اور وکلاء کی ایک لمبی چوڑی ٹیم دن رات کام کر رہی تھی۔ان کو لائبریرین اور عملہ بھی مہیا تھا اور انہیں تیاری کے لئے کافی وقت بھی دیا گیا تھا۔جماعت احمدیہ کے وفد کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کیا سوال کیا جائے گا جبکہ سوال کرنے والے اپنی مرضی سے سوالات کرتے تھے۔پھر بھی مسلسل ان کے پیش کردہ حوالے غلط نکلتے رہے اور یہ عمل اتنے دن بغیر کسی وقفہ کے جاری رہا۔اگر سوالات میں پیش کئے گئے حوالے اس طرح غلط نکل رہے ہوں تو سوالات کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی۔نہ معلوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا تصرف تھا کہ آخر تک یہ لوگ اس بنیادی نقص کو دور ہی نہ کر سکے۔111