احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 112
خاکسار نے اس سلسلہ میں مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے انٹرویو بھی لیا تھا۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب اس وقت بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے اور قومی اسمبلی کے ممبر بھی تھے۔جب ہم نے اس بارے میں ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے سوال کیا تو انہوں نے کمال قول سدید سے جواب دیا: یہ ہوا ہی کرتے ہیں۔دن رات ہوتا ہے۔یحیی بختیار بیوقوف آدمی تھا، بالکل جاہل 66 اور اس کو تو جو کسی نے لکھ کر دے دیا اس نے وہ کہہ دیا۔“ جب یہ سوال اس اضافہ کے ساتھ دہرایا گیا کہ جب ان کو عملہ اور دیگر سہولیات بھی میسر تھیں تو پھر بار بار یہ غلطیاں کیوں ہوئیں؟ تو اس پر جوسوال و جواب ہوئے وہ درج کئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب: ارے بابا! وہ کا رروائی ساری Fictitious ( بناوٹی ) تھی۔سلطان: وہ اسمبلی کی کارروائی ساری fictitious تھی؟ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب : فیصلہ پہلے سے ہوا ہوا تھا کہ کیا کرنا ہے۔(اس انٹرویو کی ریکارڈنگ محفوظ ہے۔) یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب قومی اسمبلی کی کارروائی منظر عام پر آئی اور اللہ وسایا صاحب کو مجبور انٹی کتاب شائع کرنی پڑی تو اس کے پیش لفظ میں انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے حوالوں کے معاملہ میں دجل سے کام لیا ہے۔سپیشل کمیٹی میں جو غلط حوالے پیش کئے گئے تھے ، ان کی جگہ صحیح حوالے میرے پاس ہیں اور میں بین القوسین انہیں شائع کر رہا ہوں۔وغیرہ وغیرہ۔(ویسے وہ یہ دعوئی بھی پورا نہیں کر سکے )۔عقل اللہ وسایا صاحب کے عذر کو قبول نہیں کر سکتی۔جب یہ کارروائی ہو رہی تھی تو جماعت احمدیہ کے وفد کے سامنے اٹارنی جنرل 112