احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 110
بادشاہ شاہ فیصل کے درمیان ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں شاہ فیصل نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور اس مدد کے حصول میں سہولت ہو جائے گی اگر بنگلہ دیش اپنے آئین میں جو سیکولر شقیں ہیں ان پر نظر ثانی کرے۔کمال حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن صاحب نے ثابت قدمی سے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا اور بنگلہ دیش کے آئین میں ان شقوں کی شمولیت کی وجہ بیان کی۔پاکستان کے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے بعد بھی سعودی عرب نے بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا تھا۔پھر نومبر 1974ء میں سعودی عرب میں کمال حسین صاحب اور شاہ فیصل کی ملاقات ہوئی۔اس میں شاہ فیصل نے ان سیکولر شقوں کا مسئلہ دوبارہ اُٹھایا اور کمال حسین صاحب کو ان شقوں کی وضاحت کرنی پڑی۔اگر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب اور کمال حسین صاحب کے بیانات قبول کئے جائیں اور بظاہر قبول نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی تو یہ صورت حال سامنے آتی ہے کہ اُس وقت ایک سے زائد ممالک میں یہ عمل جاری تھا۔(Bangladesh Quest for Freedom and Justice, by Kamal Hossain, published by Oxford University Press,p 191-194) اس فیصلہ میں بہت سے تاریخی واقعات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔جماعت کے خلاف چلنے والی شورش کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا ہے۔اپوزیشن کی قرارداد کا ذکر بھی تفصیل سے ہے لیکن جب اسمبلی کی اُس کا روائی کا مرحلہ آتا ہے جب امام جماعت احمد یہ نے محضر نامہ پڑھا تھا تو یہ ذکر ہی نہیں کیا گیا کہ جماعت احمدیہ کا موقف کیا تھا؟ جب جماعت احمدیہ کے وفد سے سوال و جواب کا طویل سلسلہ چلا تو اس ذکر کو مختصر کر کے سیدھا اٹارنی جنرل صاحب کی آخری تفصیلی تقریر کا ذکر شروع ہو جاتا ہے۔شاید اس کی 110