احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 109 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 109

کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا تھا؟ مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے کافی عرصہ بعد اس راز سے پردہ اُٹھایا۔انہوں نے کراچی کے ایک جریدہ کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا " 'Bhutto was under pressure from the Saudi King, Shah Faisal to declare the Ahmadis non-Muslim۔" (Newsline, Nov۔2017p37) ترجمه: سعودی بادشاہ ، شاہ فیصل بھٹو صاحب پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ احمدیوں کو غیر مسلم قراردیا جائے۔شاہ فیصل کی اس خواہش کی وجہ کیا تھی؟ اس بحث میں جائے بغیر چند امور توجہ طلب ہیں۔کسی بھی ملک میں جب آئینی ترمیم کی جائے تو یہ فیصلہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ خود مختار ممالک آزادانہ طور پر یہ فیصلہ خود کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ جمہوری طرز پر کیا گیا تھا۔کیا جمہوری ممالک اپنے آئین میں ترامیم دوسرے ممالک سے مالی مدد کے عوض کرتے ہیں؟ اور ملک بھی وہ جہاں خود جمہوریت کا وجود نہ ہو۔اگر اس مداخلت کو قبول کرنے کی وجہ وہ مالی مدد نہیں تھی جو کہ سعودی عرب سے لینی مقصود تھی تو کیا تھی؟ اگر سعودی مدد کے عوض یہ خدمت کی گئی تھی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا تو ایسا کرنا پاکستان کی خود مختاری کو فروخت کرنے کے مترادف تھا۔شاید اس دعوے کو کوئی شخص محض Conspiracy Theory قرار دے تو ایک اور بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک نہیں تھا جس کے آئین میں اپنی مرضی کی مذہبی نوعیت کی تبدیلیوں کے لئے سعودی عرب کے شاہ فیصل نے دباؤ ڈالا تھا۔بنگلہ دیش کے پہلے وزیر قانون کمال حسین صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ستمبر 1973ء میں الجزائر میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن صاحب اور سعودی 109