احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 108
ڈاکٹر مبشر حسن صاحب جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے اپنی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں۔وہ اپنے ریکارڈ سے ایک کاغذ کے مندرجات لکھتے ہیں جس پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تین وزیروں نے کچھ نہ کچھ لکھا تھا۔یہ اعلیٰ سطح کا اجلاس یکم جولائی 1974ء کو ہوا تھا۔اس پر اُس وقت کی حکومت کے سیاسی مخالفین کی فہرست بھی درج ہے۔یہ فہرست ملا حظہ ہو۔ولی خان ، مفتی محمود، جماعت اسلامی ، نصر اللہ، قادیانی ، ہڑتال کرنے والے مزدور۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب تبصرہ کرتے ہیں کہ قادیانی ہمارے دوست تھے لیکن جب ہم نے آئین میں ترمیم کر کے انہیں غیر مسلم قرار دیا تو وہ ہمارے دوست نہ رہے۔بہت خوب! مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب پاکستان کے چند اعلیٰ تعلیم یافتہ سیاستدانوں میں سے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت سے بھی نوازا ہے لیکن وہ معصومیت میں بہت اہم انکشاف کر گئے ہیں۔ذرا تاریخ پر غور کریں۔آئین میں دوسری ترمیم تو 7 ستمبر 1974ء کو ہوئی تھی۔یکم جولائی تک تو ابھی سپیشل کمیٹی کی کارروائی بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ابھی تو جماعت احمدیہ کی طرف سے محضر نامہ بھی نہیں پیش ہوا تھا۔اور یکم جولائی سے ہی آپ نے اس وجہ سے کہ آپ نے آئین میں ترمیم کر کے بزعم خود جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اپنے سیاسی مخالفین کی فہرست میں بھی شامل کرنا شروع کر دیا تھا۔ان تمام حقائق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔یہ طویل کا رروائی جسے اتنے سال خفیہ بھی رکھا گیا صرف دکھانے کے لئے تھی۔(The Mirage of Power By Doctor Mubashir Hassan, published by Jamhoori Publication 2000p 253) بیرونی ہاتھ ظاہر ہے اگر یہ بات درست ہے کہ یہ فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا تو پھر یہ سوال تو اُٹھے گا 108