احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 95
تجویز کر لیتے ہیں اور اس پر یقین بھی رکھتے ہیں لیکن اپنے اندر موجود کمی کو محسوس کرنے کی بجائے وہ اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لئے دوسروں پر مسلسل بے تکان اور بے بنیاد الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں اور اس الزام تراشی سے ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ذہن میں یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو برتر ثابت کر رہے ہیں۔درحقیقت وہ اپنا بھی تماشا بنا رہے ہوتے ہیں اور معاشرے میں بھی زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔اختلاف تو ہر ایک کا حق ہے لیکن جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت انگیزی کرنے والوں کی اکثر کیفیت Narcissistic High Conflict Personality والی ہی ہوتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں دوسری آئینی ترمیم کا ذکر۔جعلی حوالوں سے جعلی حوالوں تک اس تفصیلی فیصلہ میں 1974ء میں ہونے والی دوسری آئینی ترمیم کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔یہ وہ ترمیم ہے جس میں احمدیوں کو قانون اور آئین کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور جماعت احمد یہ ہمیشہ سے اس فیصلہ کو مسترد کرتی آ رہی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے دوسری آئینی ترمیم کو اپنے اس فیصلے کا جواز قرار دیا ہے۔اس لئے اس فیصلہ کے اُس حصے کا تجزیہ زیادہ ضروری ہے جس میں دوسری آئینی ترمیم اور اس کے منظور ہونے کا ذکر ہے۔اس مضمون میں 1974ء کے تمام حالات کا ذکر نہیں کیا جا رہا۔صرف عدالتی فیصلہ کے ان حصوں کا تجزیہ کیا جارہا ہے جن میں دوسری آئینی ترمیم کا ذکر ہے۔95