احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 59 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 59

الزام لگا دیا۔آخر یہ ہولناک انکشاف کس طرح ہوا؟ اور گلی گلی لوگوں کو تو علم ہو گیا لیکن کیا حکومت پاکستان اور اس کے ادارے اونگھ رہے تھے کہ یا تو انہیں علم نہ ہوا یا کچھ کرنے کی سکت نہیں تھی۔لیکن حقیقت جاننے کا ایک آسان طریقہ ہے۔کابینہ میں ایک ہی احمدی تھا یعنی حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور ان کی وزارت بھی ایسی تھی یعنی وزارت خارجہ کہ اس الزام کو پرکھنا نسبتا آسان ہوگا۔وزیر خارجہ بننے سے معاقبل قائد اعظم نے چوہدری صاحب کو مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لئے مقرر کیا تھا۔یہ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ اگر احمدی مغربی استعمار کے ایجنٹ تھے تو اتنے اہم معاملہ میں ایک احمدی کو پاکستان کا نمائندہ کیوں مقرر کیا گیا؟ اگر کوئی سکج بحثی پر اتر آئے اور ہم فرض کر لیں کہ قائد اعظم کو غلطی لگ گئی تھی تو پھر اس سے اگلا مرحلہ ہمیں اور بھی حیرت زدہ کر دیتا ہے۔اقوام متحدہ میں دو کمیٹیاں قائم کر دی گئی تھیں۔ایک کمیٹی نے یہودیوں اور امریکہ کی رائے کے مطابق تجاویز مرتب کرنی تھیں اور ان کو پیش کرنا تھا اور دوسری کمیٹی نے فلسطینیوں کی رائے کے مطابق تجاویز تیار کرنی تھیں اور انہیں پیش کرنا تھا۔جس کمیٹی نے فلسطینیوں کی آراء کو تیار کرنا تھا اور ان کا دفاع کرنا تھا اس کا صدر بھی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بنایا گیا اور Rapporteur بھی آپ کو ہی بنایا گیا۔اس کمیٹی میں زیادہ تر عرب مسلمان ممالک تھے اور مسلمان ممالک کے مندوبین نے متفقہ طور پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اپنی کمیٹی کا صدر منتخب کیا تھا۔ضمناً یہ عرض کر دیں کہ ان میں ایک سعودی عرب کے امیر فیصل بھی تھے جنہیں آج کی دنیا شاہ فیصل کے نام سے جانتی ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی اس مسئلہ پر تقاریر انٹرنیٹ پر موجود اقوام متحدہ 59