احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 53
پر پاکستان کی صحیح نمائندگی نہیں کی تھی تو پہلی بات یہ ہے کہ وہ واحد قرار داد جس پر بناء کر کے پاکستان اب تک اپنا موقف پیش کرتا رہا ہے وہ اس وقت منظور کی گئی تھی جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔اس کے بعدسات دہائیوں میں اس قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس بحث کے دوران جو نمایاں افراد موجود تھے انہوں نے اس بارے میں کیا رائے ظاہر کی۔۔۔۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی صاحب جو اس وفد میں شامل تھے لکھتے ہیں: "Zafarullah Khan's masterly exposition of the case convinced the security council that the problem was not simply one of expelling so called raiders from Kashmir۔" ظفر اللہ خان نے اس ماہرانہ انداز میں واقعات پیش کئے کہ سلامتی کونسل کو یقین ہو گیا کہ یہ معاملہ فقط کشمیر سے نام نہا دحملہ آوروں کو باہر نکالنے کا نہیں ہے۔(The Emergence of Pakistan, by Chaudri Muhammad Ali, research Society of Pakistan, Oct۔2003, p301) آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار ابراہیم جو اس موقع پر موجود تھے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : پاکستان کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں جو بھارت کی شکایت پر وو بلا یا گیا تھا۔بھارت کے ایک ایک الزام کو غلط اور بے بنیاد ثابت کر دی۔کشمیر کی جنگ آزادی، مصنفہ سرادار محمد ابراہیم، طابع دین محمدی پریس لاہور 1966ء ،صفحہ 126 )۔۔۔۔۔چو ہدری صاحب نے اس بحث میں دوسرے فریق کے بیانات کو اس مہارت سے استعمال کیا کہ اس کا اعتراف ان کے مصنفین بھی کرتے ہیں۔چنانچہ بال راج مدھک سلامتی 53