احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 18 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 18

کارروائی کی اور نہ بعد میں کوئی لشکر روانہ فرمایا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسود عنسی کے مقابل پر کوئی لشکر روانہ فرمایا تھا۔اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں جو تاریخی حوالے درج فرمائے ہیں ، ان میں سے ایک بھی اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مدعیان نبوت کے خلاف کوئی لشکر روانہ کیا تھا۔اگر چہ اس وقت اسود عنسی نے مسلمانوں کی حکومت کے ایک وسیع حصہ پر قبضہ کر لیا تھا اور واضح بغاوت کا مرتکب ہو چکا تھا اور مسلمانوں کا پوراحق تھا کہ اس کے خلاف کارروائی کرتے۔لیکن قرآن کریم کی تعلیم واضح ہے کہ جو شخص جھوٹا دعویٰ نبوت کرے یا جھوٹا دعویٰ وحی کرے خواہ پوری دنیا اس کے ساتھ ہو خدا اس کو خو د تباہ کر دیتا ہے اور وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔( سورة الحاقہ آیت 45 تا 47) حضرت ابوبکر کے دور کی جو مثال پیش کی جاتی ہے تو اس ضمن میں یہ حقیقت واضح ہے کہ حضرت ابوبکر کے دور میں بھی مسیلمہ کذاب نے پہلے خود مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کا خون بہایا تھا اور ریاست سے بغاوت کا مرتکب ہوا تھا۔اور یہاں کسی مذہبی عقیدہ یا دعویٰ نبوت کا سوال نہیں ہے ، خواہ آج سے پندرہ سو سال قبل کا دور ہو یا موجودہ دور ہو جب بھی کسی ریاست کے خلاف اس طرح کی بغاوت ہوگی تو اس کے خلاف فوج کشی کی جائے گی۔یہ فیصلہ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صاحب کو خود اس دور کے بنیادی تاریخی حقائق کا علم نہیں تھا اور انہیں کسی اور نے یہ مواد لکھ کر دیا ہے اور اس میں دانستہ یا نا دانستہ طور پر بہت سی غلطیاں شامل ہو گئی ہیں۔مثال کے طور پر اس فیصلہ کے صفحہ 19 پر وہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے اسود عنسی کے خلاف کارروائی کی تھی جیسا کہ ہم تاریخی حوالے درج کر چکے ہیں، اسود عنسی تو حضرت ابو بکر کی خلافت کے آغاز سے چند روز قبل ہی مارا جا چکا تھا۔18