احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 290
الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (بنی اسرائیل: 2) پاک ہے وہ جو رات کے وقت اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے۔تاکہ ہم اسے اپنے نشانات میں سے کچھ دکھا ئیں۔یقیناًوہ بہت سننے والا اور بہت گہری نظر رکھنے والا ہے۔جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، اُس وقت بیت المقدس میں مسلمانوں کی کوئی مسجد موجود نہیں تھی۔اُس وقت بیت المقدس میں یہودیوں کا معبد موجود تھا۔اور اس معبد کے لئے قرآن کریم میں مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔پھر سورہ کہف میں بیان کیا گیا ہے: إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا (الكهف: 22) ترجمہ: جب وہ آپس میں بحث کر رہے تھے تو ان میں سے بعض نے کہا ان پر کوئی یادگار عمارت تعمیر کرو۔ان کا رب ان کے بارہ میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔اُن لوگوں نے جو اپنے فیصلہ میں غالب آگئے کہا ہم تو یقیناً ان پر ایک مسجد تعمیر کریں گے۔یہ آیت اصحاب کہف کے بارے میں ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ واقعہ اسلام سے کافی پہلے کا ہے اور ان لوگوں کی عبادتگاہ کے لئے قرآن کریم میں مسجد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔احادیث نبویہ صلی یتیم سے دلائل پھر عدالت کے سامنے یہ تجزیہ پیش کیا گیا کہ کیا حدیث میں مسجد کا لفظ صرف 290