احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 291
مسلمانوں کی عبادتگاہ کے لئے استعمال ہوا ہے یا دوسرے مذاہب کی عبادتگاہوں کو بھی مسجد“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے؟ اس ضمن میں صحیح بخاری کی حدیث ہے: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ نے ایک کنیسہ کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔اس میں تصویریں تھیں۔انہوں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا۔آپ نے فرمایا کہ ان کا یہ حال تھا کہ ان کا کوئی صالح شخص فوت ہو جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی تصویریں بنادیتے۔یہ لوگ خدا کے نزدیک قیامت کے دن بدترین مخلوق ہیں۔“ ( صحیح بخاری - کتاب الصلوة - هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد) اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہود اور نصاریٰ کے معاہد کے لئے مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے باوجود اس کے کہ ان کے مذکورہ فعل کی مذمت کی جارہی ہے اور صحیح مسلم میں یہ مضمون بالکل واضح ہو جاتا ہے کیونکہ مذکورہ بالا حدیث صحیح مسلم کی کتاب المساجد و۔مواضع الصلاة‘“ کے ”باب النهي عن بناء المساجد على القبور واتخاذ الصور فيها والنهي عن اتخاذ القبور مساجدا‘ میں بھی بیان کی گئی ہے۔صحیح مسلم کے اس باب کی بعض اور احادیث ملاحظہ ہوں : حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس سے آپ اُٹھ نہیں سکے فرمایا اللہ کی لعنت ہو یہود ونصاریٰ پر جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔وہ فرماتی تھیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر کو باہر کھلی جگہ بنا دیا جاتا مگر اس بات کا خدشہ ہوا کہ اسے مسجد نہ بنالیا جائے۔“ اس حدیث میں بھی یہود و نصاریٰ کی عبادتگاہ کے لئے مسجد کا لفظ استعمال ہوا ہے 291