احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 282 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 282

جانوروں کو حج کے موقع پر مکہ لے کر جاتے اور ان کے گلے میں پٹا ڈال دیتے تھے اور پھر کوئی غیر بھی ان جانوروں کو کچھ نہیں کہتا تھا۔اسی طرح صفا مروہ کے گرد سعی یعنی ان کے چکر لگانے کا بھی عرب میں اسلام کی آمد سے قبل رواج تھا۔اور ان میں یہ رواج حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلے آرہے تھے۔یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام کی آمد کے بعد مشرکین یہ اعتراض کرتے کہ یہ تو ہمارے شعائر ہیں اور اسلام کی آمد سے قبل ہی صدیوں سے ہم ان پر عمل کر رہے تھے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے علیحدہ شعائر بنا ئیں اور ہماری رسومات پر عمل نہ کریں اور ہمارے شعائر کی بے حرمتی نہ کریں تو کیا وہ حق بجانب ہوتے؟ مخالفین جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اکثر وہ مؤقف اپنا لیتے ہیں جو کہ خود اسلام پر اعتراض پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔اگر مخالفین احمدیت کے نظریات کی طرف دیکھیں تو ان کی رو سے یہی نتیجہ نکلے گا کہ مشرکین مکہ مسلمانوں پر ان مظالم کو ڈھانے کا حق رکھتے تھے کیونکہ مسلمان ان کے قدیمی شعائر کو استعمال کر رہے تھے اور مشرکین کی اکثریت کو غصہ دلا رہے تھے اور ظاہر ہے کہ کوئی انصاف پسند اس موقف کی حمایت نہیں کر سکتا۔( تفسیر ابن کثیر اردو تر جمه از مولانامحمد جونا گڑھی جلد 2 ناشر فقہ الحدیث پبلیکیشنز مارچ 2009 صفحہ 332 تفسیر ابن کثیر اردو تر جمہ از مولانا محمد جونا گڑھی جلد 1 ناشر فقہ الحدیث پبلیکیشنز مارچ 2009 صفحہ 324 تا 327) بحث یہ تھی کہ اذان ، علیہ السلام، رضی اللہ عنہ، صحابہ،خلیفتہ المسلمین ، امیر المومنین جیسی اصطلاحات شعائر اللہ ہیں اور قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ شعائر اللہ کو غیر مسلموں کی دست برد سے بچاؤ۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم کی آیات میں کہیں اذان، علیہ السلام، رضی اللہ عنہ، صحابه، خلیفہ المسلمین ، امیر المومنین جیسی اصطلاحات کو شعائر اللہ قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی یہ حکم مذکور ہے کہ ان کو غیر مسلموں کی دست برد سے بچاؤ۔اس لئے عدالتی فیصلہ میں یہ دعویٰ غلط ہے کہ قرآن کریم ان کے مؤقف کی تائید کر رہا ہے۔282