احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 278 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 278

نے لکھا کہ قادیانیوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ شعائر اسلام کا استعمال کریں کیونکہ ان کا استعمال مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے۔جسٹس عبد القدیر چوہدری صاحب اس سے بھی ایک قدم آگے جا کر لکھتے ہیں : "Again, if the appellants or their community have no designs to deceive, why do not they coin their own epithets etc۔? Do not they realise that relying on the 'Shaairs' and other exclusive signs, marks and practices of other religions will betray the hollowness of their own religion۔It may mean in that event that their new religion cannot progress or expand on its own strength, worth and merit but has to rely on deception۔" (page 89 & 90) ترجمہ: اگر درخوا دست گزار اور ان کے گروہ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کو دھوکہ دیں وہ اپنے خطابات وضع کیوں نہیں کر لیتے۔کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ دوسرے مذاہب کے شعائر ، علامات، نشانات اور طریقوں کو اپنانے سے ان کے اپنے مذہب کا کھوکلا پن ظاہر ہوتا ہے۔اس کا تو یہ مطلب نکل سکتا ہے کہ ان کے مذہب میں اپنے طور پر ترقی کرنے اور پھیلنے کی صلاحیت نہیں ہے۔عدالتی فیصلہ میں شعائر اللہ کی تعریف اس ساری بحث کے بعد غالباً معزول جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کو یہ خیال آیا کہ یہ وضاحت تو ہوئی ہی نہیں کہ آخر شعائر اللہ یا شعائر اسلام کہتے کسے ہیں؟ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے انہوں نے مختلف مفسرین کے اقتباسات درج کئے ہیں لیکن یہ بات 278