احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 236 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 236

جنرل ضیاء صاحب کے آرڈینس کے تحت نافذ ہونے والا قانون خود بخود کالعدم ہو جاتا ہے اور اس کو نافذ کرنا غیر آئینی ہے۔اگر یہ نکتہ اٹھایا جائے کہ یہ مذہبی آزادی قانون کے تابع بیان کی گئی ہے اور اگر ایسا قانون بنادیا جائے جس میں احمدیوں کی مذہبی آزادی سلب کر لی جائے تو آئین کی یہ شق اس کو روک نہیں سکتی تو پھر یہ احمد یوں تک کیوں محدودر ہے؟ پھر تو پاکستان میں کسی بھی گروہ کی مذہبی آزادی قانون بنا کر سب کی جاسکتی ہے۔پھر یہ اندھیر نگری صرف مذہبی آزادی تک کیوں محدودر ہے؟ آئین کی تمہید میں انصاف اور برابری کے حق کو بھی قانون اور اخلاق عامہ کے تابع بیان کیا گیا ہے۔کل کو یہ کہا جائے گا کہ ہم نے قانون بنا دیا ہے کہ اب سے انصاف اور برابری غیر قانونی ہوگی۔آئین کے آرٹیکل 14 میں گھر کی خلوت کے حق کو بھی قانون کے تابع بیان کیا گیا ہے۔کوئی حکومت پھر یہ کہہ سکتی ہے کہ ہم قانون بنا رہے ہیں کہ کسی کو گھر کی خلوت کا حق حاصل نہیں ہے۔اور کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ ہمارے اس حق پر اعتراض کرے۔آئین کی شق 22 میں لکھا ہے کہ کسی شخص کو نسل ، ذات، مذہب یا مقام پیدائش کی بنا پر ایسے تعلیمی ادارے میں داخلہ سے محروم نہیں کیا جائے گا جسے سرکاری محاصل سے مدد ملتی ہو۔اور آئین کی رو سے یہ حق بھی قانون کے تابع بیان کیا گیا ہے۔اگر یہ دروازہ کھولا جائے تو پھر کوئی قانون ساز اسمبلی یہ اعلان کر سکتی ہے کہ ہم نے یہ قانون بنادیا ہے کہ اب سے تعلیمی اداروں میں داخلہ بلا امتیاز نہیں ہوگا اور ہم یہ قانون بنارہے ہیں کہ یہ طبقہ اب سے تعلیمی اداروں میں داخلہ سے محروم رکھا جائے گا۔اگر یہ سوچ لے کر قانون سازی کی جائے گی کہ ہمیں قانون بنانے کا اختیار ہے تو پاکستان میں کسی کے بھی حقوق محفوظ نہیں رہیں گے اور جارج اورول (George Orwell) کے اُس ناول میں بیان کیا گیا نقشہ سامنے آجاتا ہے، ستم ظریفی دیکھیں جس کا نام ہی 1984ء۔ہے۔236