احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 235
اسلم خا کی صاحب کی رائے اور آئین میں تبلیغ کی آزادی یہی وجہ تھی کہ ایک عدالتی مددگار ماہر ڈاکٹر اسلم خا کی صاحب نے عدالت میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا: "prohibiting Qadianis from preaching their religion is a sort of 'one sided operation' which is not justified in Islam" (page 34) ترجمہ: قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنا ایک یک طرفہ عمل ہے جو کہ اسلام کی رو سے جائز نہیں۔اب آئین کی شق نمبر 20 کا جائزہ لیتے ہیں۔یہ شق بیان کرتی ہے ” قانون امن عامہ اور اخلاق کے تابع [الف] ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا“ اس شق کی رو سے ہر شہری کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔شریعت کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ نکتہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ حق تو قانون کے تابع ہے۔جب 1984ء میں احمدیوں کے بارے میں ایک قانون بنا دیا گیا تو پھر یہ حق برقرار نہیں رہتا۔(فیصلہ شریعت کورٹ صفحہ 183) لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آئین کی رو سے یعنی آئین کے آرٹیکل 8 کی رو سے ان بنیادی حقوق میں کمی کرنے یا انہیں منسوخ کرنے کا کوئی قانون نہیں بن سکتا اور اگر ایسا قانون بنایا جائے تو اس حد تک کالعدم ہو گا جس حد تک وہ ان بنیادی حقوق سے ٹکرائے گا تو اس رُو سے تو 1984ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف 235