احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 203 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 203

found contrary to the very theme of the Constitution then it is to be declared void۔Moreover, any enactment aimed at benefitting a specific person or community should also be discouraged and declared void as such exercise instead of promoting the administration of justice would cause injustice in the society amongst the citizens who were being governed under the Constitution۔" (page36) ترجمہ: فاضل ماہر نے اس پر اضافہ کیا کہ اعلیٰ عدالت کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر اُس قانون کا جائزہ لے جو کہ ان بنیادی حقوق کے خلاف ہو جن کا ذکر آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 227 میں ہے یا جب کسی قانون کے مندرجات آئین کے بنیادی خدو خال سے متصادم ہوں تو اسے منسوخ قرار دینا چاہیے۔جب کوئی قانون اس لئے بنایا جائے کہ کسی مخصوص شخص یا گروہ کو فائدہ پہنچایا جائے تو اسے منسوخ قرار دینا چاہیے کیونکہ اس عمل سے آئین کے فراہم کردہ انصاف کی بجائے معاشرے میں ان شہریوں کے درمیان ناانصافی پیدا ہوتی ہے جو اس آئین کے ماتحت ہ رہے ہوتے ہیں۔ره پہلے اس رائے کے دوسرے دلچسپ حصے کا ذکر کرتے ہیں۔اس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ جس طرح پاکستان میں قانون سازی کرتے ہوئے احمدیوں کے مفادات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے اور دوسروں کے مفادات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس کے رڈ میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں کوئی بھی ذی ہوش اسے سنجیدہ رائے قرار نہیں دے سکتا۔انتخابی قوانین کی مثال ہی لے لیں۔پورے پاکستان میں ایک انتخابی فہرست اس لئے بنتی ہے جس میں مسلمانوں کے باقی تمام فرقے عیسائی ، ہندو اور دوسرے مذاہب کے سب افراد شامل ہوتے ہیں اور 203