احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 202 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 202

دونوں نے ان قوانین کو منظور کیا تھا پھر بھی جماعت احمدیہ کے مخالفین کے نزدیک چونکہ یہ قوانین پاکستان کے آئین کے خلاف تھے اس لئے غیر قانونی تھے۔گو کہ حکومت نے اس مقدمہ کے فیصلہ سے قبل ہی ان شقوں کو جن پر جماعت احمدیہ کے مخالفین کو اعتراض تھا تبدیل کر دیا تھا، پھر بھی جماعت احمدیہ کے مخالفین کی تسلی نہیں ہوئی۔اُن کا مطالبہ تھا کہ ان لوگوں کو منظر عام پر لایا جائے جنہوں نے یہ تبدیلی کی تھی۔چنانچہ اللہ وسایا صاحب اور یونس قریشی صاحب کی درخواستوں میں یہی مطالبہ کیا گیا تھا۔بابر اعوان صاحب کی رائے ایک Amicus Curiae ( وہ ماہر جنہیں عدالت اپنی اعانت کے لئے طلب کرتی ہے ) سابق وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان صاحب نے اس معاملہ پر رائے دی کہ پارلیمنٹ کا قانون بنانے کا اختیار غیر محدود نہیں ہے گو کہ بابر اعوان صاحب نے یہ رائے جماعت احمدیہ کے مخالفین کے موقف کی حمایت کے لئے دی تھی لیکن اس کی دلیل دیتے ہوئے وہ جماعت احمدیہ کے اُس اصولی موقف کی تائید کر گئے جو کہ 1974ء کی کارروائی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا اور اُس موقف کی مخالفت کر گئے جو کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین کی طرف سے پیش کیا جاتا رہا۔سب سے پہلے ہم بابر اعوان صاحب کی دلیل انہی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔انہوں نے فرمایا: "Learned Amicus further added that higher judiciary is duty bound to examine the constitutionality of any law if it be promulgated in derogation of the found to Fundamental Rights as envisaged by Art۔8 and 227 of the Constitution, or where any provision of any law was 202