احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 3
ہیں اور سامان توڑ پھوڑ کر برابر کر دیتے ہیں۔جو شے آتی ہے، لے بھاگتے ہیں رفتہ رفتہ یہ نوبت پہنچی کہ سواران باغیہ قلعہ کے لاہوری دروازے تک جا پہنچے۔کوئی ان کا سد راہ نہ ہوا۔داستان غدر مصنفه ظهیر دہلوی ناشر سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور سال 2007 ، صفحہ 53 ) کیا یہ جنگ جہاد تھی ؟ سرسید احمد خان صاحب لکھتے ہیں : غور کرنا چاہیے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے خراب اور بد رویہ اور بد اطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خواری اور تماش بینی اور ناچ اور چنگ دیکھنے کے اور کچھ وظیفہ ان کا نہ تھا۔بھلا یہ کیونکر پیشوا اور مقتدا جہاد کے گنے جاسکتے تھے۔اس ہنگامہ میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہیں ہوئی۔سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب جو امانت تھا اس میں خیانت کرنا، ملازمین کو نمک حرامی کرنی ، مذہب کے رو سے درست نہ تھی۔صریح ظاہر ہے کہ بے گناہوں کا قتل علی الخصوص عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کا ، مذہب کے بموجب گناہ عظیم تھا پھر کیوں کر یہ ہنگامہ غدر جہاد ہو سکتا تھا البتہ چند بد ذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے کو اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت مع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرام زدگیوں میں سے ایک حرام زدگی 66 تھی نہ واقع میں جہاد۔“ اسباب بغاوت ہند، مصنفہ سرسید احمد خان صفحه 31 تا 34 ) خودان واقعات کے مسلمان گواہ مثال کے طور پر عبد اللطیف صاحب اور حکیم احسن اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس جنگ کو بر پا کرنے والوں نے دہلی کی عورتوں پر حملہ کیا یہاں تک کہ کچھ عورتوں نے ان سے اپنی عزت بچانے کے لئے خود کشیاں کر لیں۔بازار کے قریب مساجد میں اذان دینے پر پابندی لگا دی۔اور لوٹ مار بر پا کی۔یہ صورت حال دیکھ کر مقامی مولویوں 3