احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 151 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 151

اسمبلی کے ممبر بھی تھے۔آزادی سے قبل 1924ء میں جب افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ نے عقیدہ کی بناء پر ایک احمدی مولوی نعمت اللہ صاحب کو سر عام سنگسار کیا تو ہندوستان میں اس موضوع پر بحث چھڑ گئی۔اس مرحلہ پر شبیر عثمانی صاحب نے اس سزائے موت کے دفاع کے لئے اس موضوع پر ایک کتا بچہ تحریر کیا کہ نعوذ باللہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔پاکستان بننے کے صرف اڑھائی سال کے بعد جماعت احمدیہ کے مخالفین نے اس کتا بچہ کے مصنف کی اجازت سے اس کو شائع کیا اور مخالفین جماعت نے جلسوں میں یہ اپیلیں شروع کیں کہ لوگ اسے پڑھیں اور تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے مطابق اس کی اشاعت کے بعد پاکستان میں احمدیوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔اور جلسوں میں با قاعدہ لوگوں نے کھڑے ہوکر اعلان شروع کئے کہ وہ فلاں فلاں احمدی کو خود قتل کریں گے۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ، صفحہ 18 ، 24،21) اور جون 1951ء میں جماعت اسلامی کے بانی مودودی صاحب نے بھی ایک کتاب ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں لکھ کر مرتد کے لئے قتل کی سزا تجویز کی۔ملاحظہ کریں کہ یہ سب کچھ اُس وقت کیا جا رہا تھا جب پاکستان کو بنے صرف اڑھائی تین سال ہوئے تھے۔ابھی پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔مالی مسائل ہوں یا ملک کے دفاع کا مسئلہ ہو ملک ہر طرف سے مسائل میں گھرا ہوا تھا اور ابھی ملک کا آئین بھی نہیں بنا تھا اور ان احباب کو فکر کیا پڑی ہے؟ کہ مرتد کو قتل کر دو۔بھارت اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے۔جنوری 1950 میں بھارت میں آئین بن کر پارلیمنٹ سے منظور ہو کر نافذ ہو چکا تھا اور پاکستان میں بجائے اس کے کہ ملک کو آئین دے کر آگے بڑھتے یہ بحث شروع کر دی گئی کہ مرتد کو قتل کرنا ہے کہ نہیں۔اس کے جو نتائج برآمد ہوئے وہ سب جانتے ہیں۔151