احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 147
"In order for the State to provide protection to minorities - not only their person or property but also to their religion conscience and religious practices - and to ensure that they have adequate freedom to lead their lives according to the dictates of their creed, inevitably requires their identification to the State۔" ترجمہ: اقلیتوں سے وابستہ افراد کی ، ان کی جائیدادوں کی ، ان کے مذہبی ضمیر کی اور ان کی مذہبی رسومات کی حفاظت کے لئے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ انہیں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کافی آزادی حاصل ہو، یہ ضروری ہے کہ ریاست کو ان کی شناخت ہو۔اب یہ سوال لازماً اُٹھے گا کہ ریاست ان کے حقوق کی حفاظت کس طرح کرے گی ؟ چنانچہ 1984ء کے حالات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس منصوبہ کی بھی کچھ جھلک نظر آجاتی ہے۔چنانچہ اس فیصلہ کے صفحہ 76 پر لکھا ہے کہ 27 اپریل 1984 ء کو تحریک ختم نبوت کا راولپنڈی میں اجلاس ہوا جس میں اس تحریک نے اپنے آٹھ مطالبات پیش کئے۔باقی مطالبات کا جائزہ بعد میں لیا جائے گا، فی الحال ان مطالبات میں سے چوتھا مطالبہ ملاحظہ ہو "Implementation of recommendation of the Council of Islamic Ideology regarding Qadianis۔( The Council proposed death penalty for an apostate۔)" ترجمه: قادیانیوں کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔اس کونسل نے مرتد کی سزا کے لئے سزائے موت کی تجویز دی تھی۔) 147