احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 141
کچھ حقائق پیش کئے جارہے ہیں جن سے ہمیں اس الزام کو پر کھنے میں مددمل سکتی ہے۔جس وقت کراچی میں یہ کانفرنس ہوئی اور اس میں جماعت احمدیہ پر صیہونیت کی اندھا دھند پیروکار ہونے کا الزام لگایا گیا۔اس دور میں امریکہ کے زیر سر پرستی یہ کوششیں ہو رہی تھیں کہ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان معاہدے ہو جائیں اور عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے سفارتی تعلقات قائم کر لیں۔عرب ممالک میں سے اکثر کی رائے تھی کہ تمام عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان اکھٹی مفاہمت ہو اور ایک ساتھ عرب ممالک کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں لیکن اسرائیل اور امریکہ کی کوشش تھی کہ اسرائیل کے عرب ممالک سے علیحدہ علیحدہ صلح کے معاہدے ہوں اور اس کوشش کے خلاف اکثر عرب دنیا میں شدید رد عمل پایا جاتا تھا۔مصر کے انورالسادات اس بات کے حامی تھے کہ مصر اور اسرائیل میں علیحدہ معاہدہ ہو جائے اور یہ معاہدہ آخر میں ستمبر 1978ء میں Camp David Accord کی صورت میں سامنے آیا اور اس کی وجہ سے انور السادات صاحب کو ملک کے اندر اور عرب ممالک کے اکثر حصہ کی ناراضگی مول لینی پڑی اور آخر میں انہیں قتل بھی کر دیا گیا۔اس وقت یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سعودی عرب باقی عرب عوام اور عرب ممالک کی حکومتوں کی طرح اس معاہدے کے سخت خلاف ہے اور اس معاہدے کے بعد بھی اس معاہدے کے خلاف بظاہر سعودی عرب کا شدید ناراضگی والا رد عمل سامنے آیا لیکن آہستہ آہستہ شواہد سامنے آتے گئے کہ یہ سب کچھ صرف دکھانے کے لئے تھا۔پس پردہ سعودی عرب ان مذاکرات اور اس معاہدے کی پوری حمایت کر رہا تھا اور امریکہ کی حکومت سے تعاون کر رہا تھا۔چنانچہ اُس وقت کے امریکی صدر کے مشیر برززنسکی صاحب لکھتے ہیں کہ جب اس 141