احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 125
کی کامیابی کے لئے دعا کریں گے۔جنرل ضیاء صاحب نے بھی ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور کہا کہ عالم اسلام کے اتحاد کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔(Daily Dawn, 9 July 1978 page 1&10) جماعت احمدیہ کی مخالفت میں رابطہ عالم اسلامی کی تاریخ رابطہ عالم اسلامی کی طوطا چشمی ملاحظہ ہو۔صرف چار پانچ سال پہلے یعنی 1973 ء اور 1974ء میں یہی تنظیم بھٹو صاحب کو تھپکیاں دے رہی تھی کہ احمدیوں کے خلاف قدم اُٹھاؤ۔اور جب کوئی قدم اُٹھایا جاتا تھا تو انہیں مبارکبادیں بھی دی جاتی تھیں۔اور اب بھٹو صاحب اقتدار سے محروم ہو کر جیل میں تھے اور اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل کر رہے تھے اور اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں نام کا مسلمان کیوں قرار دیا ہے؟ اور اب یہ تنظیم جنرل ضیاء کی حمایت کر رہی تھی۔1978ء میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا کہ رابطہ عالم اسلامی نے جماعت احمدیہ کے خلاف اس قسم کے الزامات پر مشتمل قرار داد منظور کی ہو۔جب آزاد کشمیر اسمبلی نے 1973ء میں یہ سفارشی قرار داد منظور کی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے تو فوراً رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری نے تار کے ذریعہ مکہ معظمہ سے پاکستان کے صدر بھٹو کو آزاد کشمیر کی اسمبلی کی اس قرار داد پر مبارکباد بھجوائی۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے دنیا کے مسلمان ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے ممالک میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں اور مسلمان فرقوں میں اس گمراہ فرقہ کو اپنا شر پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔(المنبر 6 جولائی 1973 صفحہ 14 و 15 ) 125