احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 113
صاحب نے جماعت کے لٹریچر سے حوالے پیش کر کے سوالات کئے اور کتابیں سامنے موجود تھیں اور جو حوالے انہوں نے اپنی ٹیم کی مدد سے پیش کیے، جماعت احمدیہ نے ان سوالات پر اور حوالوں پر جواب دینے تھے۔جب وہ حوالے غلط نکلے تو قصور اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے مولوی حضرات کی ٹیم کا ہے۔اگر وہ حوالے غلط تھے تو غلط حوالے پیش کرنے والوں کو ہی خفت اُٹھانی پڑے گی اور انہیں ہی قصور وار ٹھہرایا جائے گا۔اب جبکہ اس کارروائی کو چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے تو انہیں خیال آیا ہے کہ اب ہم صحیح حوالے پیش کر دیں گے۔یہ تو ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ کارروائی چالیس سال پہلے ہوئی اور حوالے اب پیش کرنے کی نوید سنائی جارہی ہے۔اور اللہ وسایا صاحب آپ تو اُس کا رروائی کا حصہ ہی نہیں تھے۔آپ کو تو یہ حق ہی نہیں کہ ان کی طرف سے حوالے پیش کریں۔اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو جماعت احمد یہ کے محضر نامے اور اس کے ضمیمہ جات کو سپیشل کمیٹی کی کارروائی کے حصہ کے طور پر شائع کریں ( جس کی ہمت آپ کو اب تک نہیں ہو رہی ) لوگ خود دونوں کا موازنہ کر کے فیصلہ کرلیں گے۔سکی بختیار صاحب کی اختتامی تقریر کی عبارت تبدیل کر دی گئی اب ہم اس ذکر کی طرف آتے ہیں کہ جسٹس شوکت عزیز صاحب کے اس فیصلہ میں 1974ء میں بننے والی سپیشل کمیٹی کی کارروائی کے کسی حصہ کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے؟ اس فیصلہ کے صفحہ 59 پر لکھا ہے: "whereas, Mr۔Yahya Bukhtiar, Attorney General gave following historical comments on 5 &6th September۔1974" ترجمہ: جبکہ اٹارنی جنرل یحیی بختیار صاحب نے 5 اور 6 ستمبر 1974ء کو مندرجہ ذیل 113