احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 105
ہم یہ فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں کہ جس کتاب میں اس طرز پر جعلی حوالے دیئے گئے ہوں اسے کسی ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے کہ نہیں! الزام لگانے والوں پر خود ایجنٹ ہونے کا الزام تھا شاید شورش کا شمیری صاحب اور مجلس احرار کے دوسرے عمائدین کی یہ مجبوری بھی تھی کہ وہ دوسروں کو کبھی اس کا اور کبھی اُس کا ایجنٹ قرار دیں کیونکہ یہ الزام اصل میں اُن پر آ رہا تھا۔چنانچہ 1953ء کے فسادات پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے مطابق جماعت احمد یہ کے خلاف شورش کے دوران سی آئی ڈی نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ آزادی سے پہلے تو احرار کے کانگرس سے تعلقات تھے لیکن پاکستان بننے کے بعد بھی ان میں سے بعض کانگرس کے وفادار ہیں اور پاکستان کے غدار ہیں۔اس تحقیقاتی عدالت میں اس بات کے ثبوت ملے تھے کہ مجلس احرار کے کم از کم ایک لیڈر کو کانگرس کے بودھ چندر صاحب نے ایک ہوٹل بغیر قیمت کے بھی دیا تھا اور خود شورش کا شمیری صاحب نے اپنی ایک کتاب میں اعتراف کیا تھا کہ بھارت کی کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے 1956ء میں انہیں یاد فرمایا تھا تو وہ اُن سے ملنے دہلی گئے تھے اور شورش کاشمیری صاحب نے بھارت کے ان سینئر وزیر صاحب سے پاکستان کے اندرونی حالات پر طویل گفتگو بھی کی تھی۔یہ تو ہر ایک کا حق ہے کہ جس سیاسی جماعت کو پسند کرے اُس سے وابستہ رہے مگر اس ذکر کا مقصد یہ ہے کہ اُس وقت شورش کا شمیری صاحب اور ان جیسے احرار پر اس قسم کے الزام لگ رہے تھے تو شاید ان الزامات سے نجات حاصل کرنے کے لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی ہو کہ جماعت احمدیہ پر ایجنٹ ہونے کا الزام لگا کر لوگوں کی توجہ دوسری طرف کر دیں۔مختصر یہ کہ جس شخص کی کتاب کو بنیاد بنا کر احمد یوں پر اسرائیل کے ایجنٹ 105