اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 26

کے پاس پہنچا سکیں۔لیکن یہ حکم اس وقت تک ہی دیا جاسکتا تھا جب تک امن انتہاء تک نہ پہنچا ہوا ہوتا۔پھر اس واقعہ میں خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس ڈا کہ میں بعض ڈی مقدرت اور صاحب ثروت لوگوں کی اولاد بھی شامل تھی جو اپنے اپنے حلقے میں بارسوخ تھے۔پس یہ واردات معمولی واردات نہ تھی بلکہ کسی عظیم الشان انقلاب کی طرف اشارہ کرتی تھی۔جو اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ دین اسلام سے ناواقف لوگوں کے دلوں پر جو تصرف اسلام تھا اب اس کی گرفت کم ہو رہی تھی۔اور اب وہ پھر اپنی عادات کی طرف لوٹ رہے تھے۔اور غریب ہی نہیں بلکہ امراء بھی اپنی پرانی عظمت کو قتل و غارت سے واپس لینے پر آمادہ ہو رہے تھے۔حضرت ابو شریح صحابی نے اس امر کو خوب سمجھا اور اسی وقت اپنی سب جائیداد وغیرہ بیچ کر اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ کو واپس تشریف لے گئے اور کوفہ کی رہائش ترک کر دی۔ان کا اس واقعہ پر کوفہ کو ترک کر دینا اس امر کی کافی شہادت ہے کہ یہ منفر دمثال آئندہ کے خطر ناک واقعات کی طرف اشارہ تھی۔انہی دنوں ایک اور فتنہ نے سر نکالنا شروع کیا۔عبد اللہ بن سبا ایک یہودی تھا جو اپنی ماں کی وجہ سے ابن السوداء کہلا تا تھا۔یمن کا رہنے والا اور نہایت بد باطن انسان تھا۔اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کر اس غرض سے مسلمان ہوا کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ ڈلوائے۔میرے نزدیک اس زمانہ کے فتنے اسی مفسد انسان کے ارد گرد گھومتے ہیں اور یہ ان کی روح رواں ہے۔شرارت کی طرف مائل ہو جانا اس کی جبلت میں داخل معلوم ہوتا ہے۔خفیہ منصوبہ کرنا اس کی عادت تھی اور اپنے مطلب کے آدمیوں کو تاڑ لینے میں اس کو خاص مہارت تھی۔ہر شخص سے اس کے مذاق کے مطابق بات کرتا تھا اور نیکی کے پردے میں بدی کی تحریک کرتا تھا۔اور اسی وجہ سے 26