اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 27
اچھے اچھے سنجیدہ آدمی اس کے دھوکے میں آجاتے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے نصف میں مسلمان ہوا اور تمام بلاد اسلامیہ کا دورہ اس غرض سے کیا کہ ہر ایک جگہ کے حالات سے خود واقفیت پیدا کرے۔مدینہ منورہ میں تو اس کی دال نہ گل سکتی تھی۔مکہ مکرمہ اس وقت سیاسیات سے بالکل علیحدہ تھا۔سیاسی مرکز اس وقت دارالخلافہ کے سوابصرہ، کوفہ ، دمشق اور فسطاط تھے۔پہلے ان مقامات کا اس نے دورہ کیا اور یہ رویہ اختیار کیا کہ ایسے لوگوں کی تلاش کر کے جو سزا یافتہ تھے اور اس وجہ سے حکومت سے ناخوش تھے ان سے ملتا اور انہی کے ہاں ٹھہرتا۔چنانچہ سب سے پہلے بصرہ گیا اور حکیم بن جبلہ ایک نظر بند ڈاکو کے پاس ٹھہرا اور اپنے ہم مذاق لوگوں کو جمع کرنا شروع کیا اور ان کی ایک مجلس ا بنائی۔چونکہ کام کی ابتدا تھی اور یہ آدمی ہو شیار تھا صاف صاف بات نہ کرتا بلکہ اشارہ کنایہ سے ان کو فتنہ کی طرف بلاتا تھا۔اور جیسا کہ اس نے ہمیشہ اپنا وطیرہ رکھا ہے وعظ و پند کا سلسلہ بھی ساتھ جاری رکھتا تھا۔جس سے ان لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت پیدا ہوگئی اور وہ اس کی باتیں قبول کرنے لگے۔عبد اللہ بن عامر کو جو بصرہ کے والی تھے جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا اور اس کے آنے کی وجہ دریافت کی۔اس نے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں اہل کتاب میں سے ایک شخص ہوں جسے اسلام کا انس ہو گیا ہے اور آپ کی حفاظت میں رہنا چاہتا ہوں۔عبد اللہ بن عامر کو چونکہ اصل حالات پر آگاہی حاصل ہو چکی تھی۔انہوں نے اس کے عذر کو قبول نہ کیا اور کہا کہ مجھے تمہارے متعلق جو حالات معلوم ہیں وہ ان کے خلاف ہیں اس لئے تم میرے علاقہ سے نکل جاؤ۔وہ بصرہ سے نکل کر کوفہ کی طرف چلا گیا (طبری جلد ۶ صفحه ۱۹۲۲ مطبوعہ بیروت) مگر فساد بغاوت اور اسلام سے بیگانگی کا بیج ڈال گیا جو بعد میں بڑھ کر ایک بہت بڑا درخت ہو گیا۔27