اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 93
دیا۔اس پر زید بن ثابت " جن کو قرآن کریم کے جمع کرنے کی عظیم الشان خدمت سپر دہوئی تھی تصدیق کے لئے کھڑے ہوئے مگر ان کو بھی ایک اور شخص نے بٹھا دیا۔مفسدوں کا عصائے نبوی کو توڑنا اس کے بعد اس محبت اسلام کا دعویٰ کرنے والی جماعت کے ایک فرد نے حضرت عثمان کے ہاتھ سے وہ عصا جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ایسا ہی کرتے رہے چھین لیا اور اس پر اکتفا نہ کی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس یادگار کو جو امت اسلام کے لئے ہزاروں برکتوں کا موجب تھی اپنے گھٹنوں پر رکھ کر توڑ دیا۔حضرت عثمان سے ان کو نفرت سہی خلافت سے ان کو عداوت سہی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو ان کو محبت کا دعوی تھا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس یاد گار کو اس بے ادبی کے ساتھ توڑ دینے کی ان کو کیونکر جرات ہوئی۔یورپ آج دہریت کی انتہائی حد کو پہنچا ہوا ہے مگر یہ احساس اس میں بھی باقی ہے کہ اپنے بزرگوں کی یادگاروں کی قدر کرے۔مگر ان لوگوں نے باوجود دعوائے اسلام کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عصائے مبارک کو توڑ کر پھینک دیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نصرت کا جوش صرف دکھاوے کا تھا ورنہ اس گروہ کے سردار اسلام سے ایسے ہی دور تھے جیسے کہ آج اسلام کے سب سے بڑے دشمن۔مفسدوں کا مسجد نبوری میں کنکر برسانا اور حضرت عثمان کو زخمی کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عصا تو ڑ کر بھی ان لوگوں کے دلوں کو ٹھنڈک نہ حاصل ہوئی اور انہوں نے اس مسجد میں جس کی بنیاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی اور 93