اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 85

مل سکتی تھی۔اور ان کے آنے جانے کے دن شامل کر کے قریباً چوبیس دن میں یہ لوگ مدینہ پہنچ سکتے تھے۔مگر یہ لوگ اس عرصہ سے بہت کم عرصہ میں واپس آگئے تھے۔پس صاف ثابت ہوتا ہے کہ مدینہ سے رخصت ہونے سے پہلے ہی ان لوگوں نے آپس میں منصوبہ بنا لیا تھا کہ فلاں تاریخ کو سب قافلے واپس مدینہ کو ٹیں اور ایک دم مدینہ پر قبضہ کر لیں اور چونکہ مصری قافلہ کے ساتھ عبد اللہ بن سبا تھا اور وہ نہایت ہوشیار آدمی تھا۔اس نے ایک طرف تو یہ دیکھا کہ لوگ ان سے سوال کریں گے کہ تم بلا وجہ کوٹے کیوں ہو اور دوسری طرف اس کو یہ بھی خیال تھا کہ خود اس کے ساتھیوں کے دل میں بھی یہ بات کھٹکے گی کہ فیصلہ کے بعد نقض عہد کیوں کیا گیا ہے۔اس لئے اس نے جعلی خط بنایا اور خود اپنے ساتھیوں کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا۔اور غیظ و غضب کی آگ کو ان کے دلوں میں اور بھی بھڑ کا یا۔اور صدقہ کے اونٹ کا چرالینا اور کسی غلام کو رشوت دے کر ساتھ ملا لینا کوئی مشکل بات نہیں۔اس خط کے پکڑنے کا واقعہ جس طرح بیان کیا جاتا ہے وہ خود غیر طبعی ہے۔کیونکہ اگر حضرت عثمان نے یا مروان نے کوئی ایسا خط بھیجا ہوتا تو یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ وہ غلام کبھی ان کے سامنے آتا اور کبھی چھپ جاتا۔یہ حرکت تو وہی شخص کر سکتا ہے جو خود اپنے آپ کو پکڑوانا چاہے۔اس غلام کو تو بقول ان لوگوں کے حکم دیا گیا تھا کہ اس قافلہ سے پہلے مصر پہنچ جائے۔پھر بویب مقام پر جو مصر کا دروازہ ہے اس شخص کا ان کے ساتھ ساتھ جانا کیونکر خیال میں آسکتا ہے۔قافلہ اور ایک آدمی کے سفر میں بہت فرق ہوتا ہے ایک آدمی جس سرعت سے سفر کر سکتا ہے قافلہ نہیں کرسکتا۔کیونکہ قافلہ کی حوائج بہت زیادہ ہوتی ہیں اور سب قافلہ کی سواریاں ایک جیسی تیز نہیں ہوتیں۔پس کیونکر ممکن تھا کہ بویب تک قافلہ پہنچ جاتا اور وہ 85