اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 86

پیغا مبرا بھی قافلہ کے ساتھ ہی ہوتا اس وقت تو اسے اپنی منزل مقصود کے قریب ہونا چاہئے تھا۔جو حالت وہ اس پیغامبر کی بیان کرتے ہیں وہ ایک جاسوس کی نسبت تو منسوب کی جا سکتی ہے پیغامبر کی نسبت منسوب نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح جب اس پیغامبر کو پکڑا گیا تو جو سوال و جواب اس سے ہوئے وہ بالکل غیر طبعی ہیں۔کیونکہ وہ بیان کرتا ہے کہ وہ پیغامبر ہے۔لیکن نہ اسے کوئی خط دیا گیا ہے اور نہ اسے کوئی زبانی پیغام دیا گیا ہے یہ جواب سوائے اس شخص کے کون دے سکتا ہے جو یا تو پاگل ہو یا خود اپنے آپ کو شک میں ڈالنا چاہتا ہو۔اگر واقع میں وہ شخص پیغامبر ہوتا تو اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ کہتا کہ میں حضرت عثمان یا کسی اور کا بھیجا ہوا ہوں۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سچ کا بڑا پابند تھا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس خط تھا۔مگر اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں پس ان لوگوں کی روایت کے مطابق اس پیغامبر نے جھوٹ تو ضرور بولا۔پس سوال یہ ہے کہ اس نے وہ جھوٹ کیوں بولا جس سے وہ صاف طور پر پکڑا جا تا تھا۔وہ جھوٹ کیوں نہ بولا جوایسے موقع پر اس کو گرفتاری سے بچا سکتا تھا۔غرض یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ خط اور خط لے جانے والے کا واقعہ شروع سے آخر تک فریب تھا۔انہی مفسدوں میں سے کسی نے ( زیادہ تر گمان یہ ہے کہ عبد اللہ بن سبانے ) ایک جعلی خط بنا کر ایک شخص کو دیا ہے کہ وہ اسے لے کر قافلہ کے پاس سے گزرے لیکن چونکہ ایک آبادراستہ پر ایک سوار کو جاتے ہوئے دیکھ کر پکڑ لینا قرین قیاس نہ تھا اور اس خط کو بنانے والا چاہتا تھا کہ جہاں تک ہو سکے اس واقعہ کو دوسرے کے ہاتھ سے پورا کر وائے اس لئے اس نے اس قاصد کو ہدایت کی کہ وہ اس طرح قافلہ کے ساتھ چلے کہ لوگوں کے دلوں میں شک پیدا ہو اور جب وہ اس شک کو دور کرنے کے لئے سوال کریں تو ایسے جواب دے کہ شک اور زیادہ ہو۔تا کہ عامۃ الناس خود اس کی تلاشی 86