اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 68

ہے دو ہی رکعت ہوگی۔کیا یہ بات درست نہیں ؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔آپ نے فرمایا دوسرا الزام یہ لگاتے ہیں کہ میں نے رکھ مقرر کرنے کی بدعت جاری کی ہے۔حالانکہ یہ الزام غلط ہے۔رکھ مجھ سے پہلے مقرر کی گئی تھی حضرت عمر نے اس کی ابتداء کی تھی۔اور میں نے صرف صدقہ کے اونٹوں کی زیادتی پر اس کو وسیع کیا ہے اور پھر رکھ میں جوز میں لگائی گئی ہے وہ کسی کا مال نہیں ہے اور میرا اس میں کوئی فائدہ نہیں میرے تو صرف دو اونٹ ہیں حالانکہ جب میں خلیفہ ہو ا تھا اس وقت میں سب عرب سے زیادہ مال دار تھا اب صرف دو اونٹ ہیں جو حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا یہ درست نہیں؟ صحابہ کرام نے فرمایا ہاں درست ہے۔پھر فرمایا یہ کہتے ہیں کہ نو جوانوں کو حاکم بناتا ہے۔حالانکہ میں ایسے ہی لوگوں کو حاکم بناتا ہوں جو نیک صفات نیک اطوار ہوتے ہیں اور مجھ سے پہلے بزرگوں نے میرے مقرر کردہ والیوں سے زیادہ نو عمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسامہ بن زید کے سردار شکر مقرر کر نے پر اس سے زیادہ اعتراض کئے گئے تھے جواب مجھ پر کئے جاتے ہیں۔کیا یہ درست نہیں؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔یہ لوگوں کے سامنے عیب تو بیان کرتے ہیں مگر اصل واقعات نہیں بیان کرتے۔غرض اسی طرح حضرت عثمان نے تمام اعتراضات ایک ایک کر کے بیان کئے اور ان کے جواب بیان کئے۔صحابہ برابر زور دیتے کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔مگر حضرت عثمان نے ان کی یہ بات نہ مانی اور ان کو چھوڑ دیا۔طبری کہتا ہے کہ ابى الْمُسْلِمُوْنَ إِلَّا قَتْلَهُمْ وَأَبِي إِلَّا تَرْكَهُمْ (طبری جلد ۲ صفحہ ۱۹۵۳ مطبوعہ بیروت) یعنی باقی سب مسلمان تو ان لوگوں کے قتل کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوتے تھے۔مگر حضرت عثمان سزا دینے پر کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔68 88