اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 55
بے بنیاد باتوں پر گرفت جائز نہیں ہوسکتی نہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے۔اس پر مختلف مشورے آپ کو دیئے گئے۔جن سب کا ماحصل یہی تھا کہ آپ سختی کے موقع پر سختی سے کام لیں اور ان فسادیوں کو اس قدر ڈھیل نہ دیں۔اس سے ان میں اور دلیری پیدا ہوتی ہے۔شریر صرف سزا سے ہی درست ہو سکتا ہے نرمی اسی سے کرنی چاہئے جو نرمی سے فائدہ اٹھائے۔حضرت عثمان نے سب کا مشورہ سن کر فرمایا۔جن فتنوں کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں وہ تو ہو کر رہیں گے ہاں نرمی سے اور محبت سے ان کو ایک وقت تک روکا جاسکتا ہے۔پس میں سوائے حدود اللہ کے ان لوگوں سے نرمی ہی سے معاملہ کروں گا تا کہ کسی شخص کی میرے خلاف حجت حقہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں سے بھلائی میں کوئی کمی نہیں کی۔مبارک ہو عثمان کے لئے اگر وہ فوت ہو جاوے اور فتنوں کا سیلاب جو اسلام پر آنے والا ہے وہ ابھی شروع نہ ہو ا ہو۔پس جاؤ اور لوگوں سے نرمی سے معاملہ کرو اور ان کے حقوق ان کو دو اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرو۔ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کو کوئی توڑے تو ایسے شخصوں سے نرمی اور عفو کا معاملہ نہ کرو۔حج سے واپسی پر حضرت معاویہؓ بھی حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے کچھ دن ٹھہر کر آپ واپس جانے لگے تو آپ نے حضرت عثمان سے علیحدہ مل کر درخواست کی کہ فتنہ بڑھتا معلوم ہوتا ہے۔اگر اجازت ہو تو میں اس کے متعلق کچھ عرض کروں۔آپ نے فرمایا کہو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اول میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ شام چلے چلیں کیونکہ شام میں ہر طرح سے امن ہے اور کسی قسم کا فساد نہیں ایسا نہ ہو کہ یک دم کسی قسم کا فساد 55