اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 54

کرتا ہوں کہ جس کسی کو خفیہ طور پر گالی دی گئی ہو یا پیٹا گیا ہو وہ حج کے موقعہ پر مکہ مکرمہ میں مجھ سے ملے اور جو کچھ اس پر ظلم ہو ا ہو خواہ میرے ہاتھوں سے خواہ میرے عاملوں کے ذریعے سے اس کا بدلہ وہ مجھ سے اور میرے نائبوں سے لے لے یا معاف کر دے۔اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کو اپنے پاس سے جزاء دیتا ہے۔یہ مختصر لیکن دردناک خط جس وقت تمام ممالک میں منبروں پر پڑھا گیا تو عالم اسلام ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل گیا اور سامعین بے اختیار رو پڑے اور سب نے حضرت عثمان کے لئے دعائیں کیں اور ان فتنہ پردازوں پر جو اس ملت اسلام کے در د ر کھنے والے اور اس کا بوجھ اٹھانے والے انسان پر حملہ کر رہے تھے اور اس کو دکھ دے رہے تھے اظہار افسوس کیا گیا۔(طبری جلد نمبر ۶ صفحه ۲۹۴۴ مطبوعہ بیروت) حضرت عثمان نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنے عمال کو ان الزامات کے جواب دینے کے لئے جو ان پر لگائے جاتے تھے خاص طور پر طلب کیا۔جب سب والی جمع ہو گئے تو آپ نے ان سے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ لوگوں کے خلاف الزام لگائے جاتے ہیں۔مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں یہ باتیں درست ہی نہ ہوں۔اس پر ان سب نے جواب میں عرض کیا کہ آپ نے معتبر آدمیوں کو بھیج کر دریافت کرالیا ہے کہ کوئی ظلم نہیں ہوتا۔نہ خلاف شریعت کوئی کام ہوتا ہے اور آپ کے بھیجے ہوئے معتبروں نے سب لوگوں سے حالات دریافت کئے۔ایک شخص بھی ان کے سامنے آکر ان شکایات کی صحت کا جو بیان کی جاتی ہیں مدعی نہیں ہوا۔پھر شک کی کیا گنجائش ہے۔خدا کی قسم ہے کہ ان لوگوں نے سچ سے کام نہیں لیا اور نہ تقویٰ اللہ سے کام لیا ہے۔اور ان کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔ایسی 54