اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 34
لوگ دین سے نسبتا کم تعلق رکھتے تھے اور فتنہ میں حصے لینے کے لئے زیادہ تیار تھے چنانچہ ابن السوداء کا ایک نائب جو کوفہ کا باشندہ تھا اور جس کا ذکر آگے آوے گا ان واقعات کے تھوڑے ہی عرصہ بعد جلا وطن کیا گیا تو حضرت معاویہ کے اس سوال پر کہ نئی پارٹی کے مختلف ممالک کے ممبروں کا کیا حال ہے۔اس نے جواب دیا کہ انہوں نے مجھ سے خط و کتابت کی ہے اور میں نے ان کو سمجھایا ہے اور انہوں نے مجھے نہیں سمجھایا۔مدینہ کے لوگ تو سب سے زیادہ فساد کے شائق ہیں اور سب سے کم اس کی قابلیت رکھتے ہیں۔اور کوفہ کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔لیکن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے خوف نہیں کھاتے اور بصرہ کے لوگ اکٹھے حملہ کرتے ہیں مگر پراگندہ ہو کر بھاگتے ہیں۔ہاں مصر کے لوگ ہیں جو شرارت کے اہل سب سے زیادہ ہیں۔مگر ان میں یہ نقص ہے کہ پیچھے نادم بھی جلدی ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد شام کا حال اس نے بیان کیا کہ وہ اپنے سرداروں کے سب سے زیادہ مطیع ہیں اور اپنے گمراہ کرنے والوں کے سب سے زیادہ نافرمان ہیں۔کے یہ رائے ابن الکواء کی ہے جو ابن السوداء کی پارٹی کے رکنوں میں سے تھا اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر ہی سب سے عمدہ مقام تھا جہاں ابن السوداء ڈیرہ لگا سکتا تھا۔اور اس کی شرارت کی باریک بین نظر نے اس امر کو معلوم کر کے اس مقام کو اپنے قیام کے لئے چنا اور اسے فساد کا مرکز بنادیا اور بہت جلد ایک جماعت اس کے اردگرد جمع ہوگئی۔اب سب بلاد میں شرارت کے مرکز قائم ہو گئے۔اور ابن السوداء نے ان تمام لوگوں کو جو سزا یافتہ تھے یا ان کے رشتہ دار تھے یا اور کسی سبب سے اپنی حالت پر قانع نہ تھے نہایت ہوشیاری اور دانائی سے اپنے ساتھ ملانا شروع کیا۔اور ہر ایک کے مذاق کے 34