اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 30

حقوق مقرر کئے ہیں وہ اس کے فرمان کے مطابق اس کی مخلوق کو ملیں گے۔یہ جواب ایسا لطیف تھا کہ حضرت ابو ذر اس کا جواب تو بالکل نہ دے سکے مگر چونکہ اس معاملہ میں ان کو خاص جوش تھا اور ابن سوداء ایک شک آپ کے دل میں ڈال گیا تھا۔اس لئے آپ نے احتیاطاً حضرت معاویہ کو یہی مشورہ دیا کہ آپ اس لفظ کو ترک کر دیں۔انہوں نے جواب دیا کہ میں یہ تو ہر گز نہیں کہنے کا کہ یہ اموال اللہ نہیں ہاں آئندہ اس کو اموال المسلمین کہا کروں گا۔ابن سوداء نے جب یہ حربہ کسی قدر کارگر دیکھا تو اور صحابہ کے پاس پہنچا اور ان کو اکسانا چاہا۔مگر وہ حضرت ابو ذر کی طرح گوشہ گزیں نہ تھے۔اس شخص کی شرارتوں سے واقف تھے۔ابو درداء نے اس کی بات سنتے ہی کہا تو کون ہے جو ایسی فتنہ انگریز بات کہتا ہے۔خدا کی قسم تو یہودی ہے۔ان سے مایوس ہو کر وہ انصار کے سردار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص مقرب عبادہ بن صامت کے پاس پہنچا اور ان سے کچھ فتنہ انگیز باتیں کہیں۔انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور حضرت معاویہ کے پاس لے گئے اور کہا کہ یہ شخص ہے جس نے ابوذر غفاری کو آپ کے پاس بھیجا تھا۔شام میں اپنا کام نہ بنتا دیکھ کر ابن السوداء تو مصر کی طرف چلا گیا اور ادھر حضرت ابوذر کے دل میں اس کی باتوں سے ایک نیا جوش پیدا ہو گیا اور آپ نے آگے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ مسلمانوں کو نصیحت کر دی کہ سب اپنے اپنے اموال لوگوں میں تقسیم کر دیں۔حضرت ابوذر کا یہ کہنا درست نہ تھا کہ کسی کو مال جمع نہ کرنا چاہئے۔کیونکہ صحابہ مال جمع نہیں کیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ اپنے اموال خدا کی راہ میں تقسیم کرتے تھے۔ہاں بے شک مالدار تھے اور اس کو مال جمع کرنا نہیں کہتے۔مال جمع کرنا اس کا نام ہے کہ اس مال سے غرباء کی پرورش نہ کرے اور صدقہ و خیرات نہ کرے۔خودرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی آپ کے صحابہ میں سے بعض مالدار تھے۔30 30